رسائی کے لنکس

logo-print

لندن ریلوے اسٹیشن پر چاقو سے حملے کا ملزم عدالت میں پیش


لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ عدالت نے ملزم میر پر ایک شخص کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایک 29 سالہ شخص کو لندن کے ایک زیر زمین ریلوے اسٹیشن پر مسافروں پر تشدد اور بلا اشتعال چاقو سے حملہ کرنے کے الزام میں پیر کے روز عدالت میں پیش کیا گیا۔

ہفتے کی شام مشرقی لندن کے ایک علاقے لیٹن اسٹون کے ایک زیر زمین ریلوے اسٹیشن پر ایک شخص کی طرف سے چاقو کی وار کرنے کے سبب تین افراد زخمی ہو گئے تھے۔

لندن پولیس کے مطابق لیٹن اسٹون کے ٹیوب اسٹیشن پر دہشت گردی کا واقعہ ہفتے کی شام سات بج کر چھ منٹ پر پیش آیا جب ایک چاقو سے مسلح شخص نے وہاں موجود لوگوں پر اچانک چاقو سےحملہ کر دیا تھا۔

لندن کے مقامی اخبار ایوننگ اسٹینڈرڈ کی خبر کے مطابق ریلوے اسٹیشن پر چاقو سے حملے کی واردات کرنے والے شخص کی شناخت محایدین میر کے نام سے ہوئی ہے جس کے ساتھ اس کی ایک تصویر بھی جاری کی گئی ہے۔

لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ عدالت نے ملزم محایدین میر پر ایک شخص کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

عدالت میں ملزم پر ریلوے اسٹیشن پر سب کے سامنے ایک شخص پر پیچھے سے حملہ کرنے اور اس کا گلا کاٹنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ملزم پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر ایک 56 سالہ شخص کو لاتوں سے مارتے ہوئے زمین پر گرایا تھا اور اس کے گلے پر چاقو کے وار سے ایک 12 سینٹی میٹر کا گہرا زخم لگا دیا تھا۔

سرکاری وکیل ڈیوڈ کوتھورن نے عدالت کو بتایا کہ میر حملہ کرتے وقت چلا رہا تھا کہ وہ یہ حملہ شام اور اپنے شامی بھائیوں کے لیے کر رہا ہے اور الزام لگایا کہ ملزم کے موبائل فون میں شام سے متعلق تصاویر اور مواد موجود ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ حملے میں شدید زخمی ہونے والا شخص پانچ گھنٹے کے آپریشن کے عمل سے گزرا ہے تاہم اس کی حالت نازک نہیں ہے۔

عدالت میں کہا گیا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے ملزم محایدین میر کی گرفتاری سے قبل اس پر جسم کو سن کرنے والی بندوق چلائی گئی تھی۔

ملزم کو پولیس کی حراست میں بھیج دیا گیا جسے جمعے کے روز لندن کی اولڈ بیلی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فوری طور پر ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں کہ ملزم انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کو مطلوب تھا۔

ملزم محایدین کے بھائی محمد میر نے اخبار ڈیلی میل کو بتایا کہ محایدین 12 سال کی عمر میں صومالیہ سے لندن آیا تھا وہ شمالی لندن کے علاقے کامڈین کے ایک اسکول میں پڑھتا تھا جسے فٹ بال کھیلنے کا شوق تھا تاہم اس کا کہنا ہے کہ محایدین اوبر ٹیکسی چلاتا ہے لیکن اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے وہ منشیات کا عادی ہے۔

اس واقعہ کی انٹرنیٹ پر کئی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جس میں عینی شاہدین کی جانب سے مشتبہ شخص کو چاقو پھینکنے کے لیے کہا جاتا ہے جبکہ جائے وقوعہ پر متاثرہ زخمی شخص اور فرش پر خون دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ویڈیو میں ایک عینی شاہد کی آواز سنائی دیتی ہے جو اس شخص کو للکارتے ہوئے کہتا ہے کہ 'تم مسلمان نہیں ہو ۔'

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس شخص کے الفاظ you ain’t no Muslim پر مبنی ایک ہیش ٹیگ کا رجحان زور پکڑ چکا ہے جس کے بارے میں ٹوئٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ لندن کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف ایک نڈر پیغام ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ٹوئٹر پر یہ ہیش ٹیگ چلانے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے انھوں نے کہا کہ یہ ہیش ٹیگ پورے ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس واقعے کی مذمت کرنے کے لیے میڈیا پر تقاریر اور بہت کچھ کہا ہے لیکن 'تم مسلمان نہیں ہو' کے جملے نے ہم سے زیادہ بہتر طریقے سے اس واقعہ کی مذمت کر دی ہے۔

اس ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک ٹوئٹر کے صارف نے لکھا کہ لندن کو توڑا نہیں جا سکتا ہے اور یہ ہمارے اتحاد کا خلاصہ ہے۔

اس واقعے کی ابتدائی دو ویڈیوز یو ٹیوب پر ایک ریپر بگ ٹوبز گلوکار کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی تھیں جس کے ساتھ اس نے ہولناک واقعے کی متعدد تصاویر بھی ٹوئٹس کی تھیں تاہم گلوکار کی جانب سے اب ان ویڈیوز کو اپنے ایک گانے کی پرموشن کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

اس واقعے کی ویڈیو بنانے والے تماشائی بگ ٹوبز کو لوگوں کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جو کسی بھی قسم کی مدد کرنے کے بجائے موبائل فون پر ویڈیو بنانے میں مشغول تھا۔

اخبار کے مطابق ادھر ایک بس مسافر خاتون کی طرف سے شکایت کی گئی ہے کہ لندن جانے والی ایک مسافر کوچ میں سے ایک مسلمان مرد مسافر کو بس سے اتر جانے کے لیے کہا گیا تھا۔

برسٹل یونیورسٹی کی طالبہ نے اپنے ٹوئٹر کے صفحے پر مسافر کوچ کمپنی 'نیشنل کوچ' کے خلاف شکایت کرتے ہوئے اس واقعے کی رپورٹ کی ہے جس کے متعلق ان کا خیال ہے کہ یہ ایک اسلام سے نفرت سے متعلق ایک واقعہ ہو سکتا ہے۔

تاہم کوچ سروس کی جانب سے دوٹوک الفاظ میں اس الزام کو مسترد کر دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسافر کے سامان کے حوالے سے تنازعہ تھا جس کی وجہ سے اسے بس سے اترنے کے لیے کہا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG