رسائی کے لنکس

چین کے ساتھ مختلف اور سخت انداز اپنانا ناگزیر ہے، پومپیو


امریکی وزیر خارجہ کیلی فورنیا میں خطاب کرتے ہوئے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ تقریبا پچاس سال سے امریکہ چین سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہاہے لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ انھوں نے زور دیا کہ ان تعلقات کے سلسلے میں ''مختلف اور سخت گیر انداز اپنانا ضروری ہو گیا ہے''۔

پومپیو نے یہ بات جمعرات کے روز کیلی فورنیا کے شہر یوربا لِنڈا میں 'نکسن فاؤنڈیشن' سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔

نکسن فاؤنڈٖیشن صدر رچرڈ نکسن کے نام سے موسوم ہے، جنھوں نے 1972ء میں بیجنگ کا تاریخی دورہ کیا تھا جب ان کی چینی رہنما چیئرمین ماؤ اور وزیراعظم چو اِن لائی سے ملاقاتیں ہوئی تھیں، جس سے چین کو اقوام عالم کے قریب آنے کا موقعہ ملا تھا۔

پومپیو کے بقول، ''جیسے تعلقات امریکہ نے چین سے رکھے، اس سے چین کے اندر اس سطح کی تبدیلی نہیں آئی، جسے لانے کی صدر نکسن کو توقع تھی''۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے روابط سے امریکہ کی نسبت چین کو زیادہ فائدہ ہوا اور یہ کہ ''چین نے ان عالمی ہاتھوں کو کاٹ دیا ہے جو اسے خوراک پیش کرتے ہیں''۔

امریکی وزیر خارجہ کی یہ تقریر چین کے حوالے سے تقریروں کے اس سلسلے کی چوتھی کڑی ہے، جو امریکی انتظامیہ کے عہدیدار چین کے حوالے سے دیتے رہے ہیں۔ ان تقاریر کا مقصد پومپیو کی اس رائے کو اجاگر کرنا ہے جس میں وہ چین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو عدم توازن کا شکار قرار دیتے ہیں۔.

اس سے قبل، امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے چین کے سیاسی نظام کو معتدل بنانے کی کوششوں پر بات کی تھی، ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے معاشی جاسوسی اور انٹلیکچوئیل پراپرٹی کی چوری کا معاملہ اٹھایا تھا اورامریکی اٹارنی جنرل ولیم بَر نے چین کے معاشی عزائم پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دنیا کی واحد سپر پاور کی جگہ لینے کی کوششیں کر رہا ہے.

پومپیو نے کہا کہ سابق امریکی صدر نکسن نے ایک بار خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شائد چین کی صورت میں انہوں نے ایک خطرناک "بھوت" تیار کیا ہے اور "دیکھئے ہم کہاں پہنچ گئے''۔

پومپیو نے یہ بھی کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ ''ایک ناکام مطلق العنانی کے نظریے کے حقیقی معتقد ہیں"۔

انھوں نے کہا کہ چین آزاد اور کھلے معاشرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے نام پر ، پروپیگنڈا کرنے والوں کو امریکہ کے کالجوں، تحقیقی مراکز اور اخباری کانفرنسوں میں بھیجتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور املاکِ دانش کی چوری سے متعلق امریکی رپورٹوں پر چین خاموشی اختیار کر لیتا ہے، جبکہ امریکیوں سے روزگار کے مواقع چھینے جا رہے ہیں۔

منگل کے روز امریکہ نے ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں چین سے اپنا قونصل خانہ بند کر نے کو کہا تھا، تاکہ انٹلیکچوئل پراپرٹی یعنی "املاکِ دانش اور امریکیوں کے نجی معلومات کو محفوظ" بنایا جا سکے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے ہیوسٹن میں چینی قونصل خانہ بند کرنے سے متعلق احکامات کو "بد نیتی پر مبنی توہین" قرار دیا ۔ اور کہا کہ اس "بلا جواز" اقدام سے "تعلقات کو سنگین نقصان پہنچا ہے"۔

چین نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جمعہ کو امریکہ سے کہا ہے کہ وہ چین کے مغربی شہر چینگڈو میں اپنا قونصل خانہ بند کر ے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG