رسائی کے لنکس

لوئیز ول میں مظاہرے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد زخمی


ایک سیاہ فام خاتون کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف لوئیز ول میں مظاہرہ۔

امریکی ریاست کنٹکی کے شہر لوئیز ول میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران گولی چلنے سے کم از کم 7 افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ یہ مظاہرے پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام خاتون کی ہلاکت کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔

ہلاک ہونے والی خاتون کی والدہ نے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھیں، لیکن ان مظاہروں سے کسی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

کنٹکی کے گورنر اینڈی بشیئر نے جمعرات کی شام سٹی ہال کے باہر مظاہروں کے دوران گولی چلنے کے واقعہ کے کئی گھنٹوں کے بعد برونا ٹیلر کا ایک بیان پڑھ کر سنایا۔

لوئیز ول میٹروپولیٹن پولیس نے جمعے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے گولی نہیں چلائی گئی، بلکہ پولیس اہل کاروں نے زخمیوں کو مدد فراہم کی۔

جمعے کے روز مزید مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ ٹیلر کی والدہ نے مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ پرامن رہیں۔ ان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی بیٹی ٹامیکا پالمر، ایک ایمرجینسی میڈیکل ٹیکنیشن تھی اور اس نے اپنی زندگی دوسروں کے لیے وقف کر دی تھی، اور یہ کہ وہ مزید تشدد ہوتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آپ میری بیٹی کو یاد کریں۔ آپ انصاف اور احتساب کے لیے آواز بلند کرتے رہیں۔ لیکن ہمیں یہ کام درست طریقے سے کرنا چاہیے اور کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔

حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے دو کی سرجری کی جا رہی ہے جب کہ پانچ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

گورنر بشیئر نے سی این این پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرہ پرامن انداز میں شروع ہوا تھا، لیکن بعد میں کچھ لوگوں نے اسے تشدد میں تبدیل کر دیا۔ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ضرورت پڑنے پر مناپولس کا کنٹرول سنبھالنے سے متعلق ٹوئٹ پر اپنا ردعمل ظاہر کرنے کے لیے انہیں ٹیلی فون کیا۔ صدر نے مناپولس میں ایک پولیس اسٹیشن کو نذر آتش کیے جانے کے بعد اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ جہاں لوٹ مار ہو گی، وہاں گولیاں بھی چلیں گی۔

میئر فشر نے کہا ہے کہ ٹیلر کی ہلاکت کے بعد پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے وارنٹ ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات جو لوگ مظاہرے کے لیے ڈاؤن ٹاؤن میں جمع ہوئے تھے اور جو اس شہر میں اور ملک کے دوسرے شہروں میں مظاہرے کرنے کا سوچ رہے ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں ایک کے بعد ایک سیاہ فام کی ہلاکتوں پر برہم ہیں، انہیں تکلیف پہنچی ہے، وہ خوف زدہ ہیں اور پریشان ہیں، ہم ان کی بات سننا چاہتے ہیں۔ لیکن، ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ انصاف کی جنگ بندوق اور لوٹ مار سے نہیں جیتی جا سکتی۔

لوئیز ول کے یہ مظاہرے 911 کی جانب سے ایک کال جاری کیے جانے کے بعد شروع ہوئے ہیں۔ یہ کال 13 مارچ کو ٹیلر کے بوائے فرینڈ نے اس کے بعد کی تھی جب انسداد منشیات کے اہل کاروں نے 26 سالہ ٹیلر کو اپنے گھر کے دروازے پر 8 گولیاں مار کر ہلاک کر د یا تھا۔ اس سے کوئی نشہ آور چیز بھی برآمد نہیں ہوئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG