رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے مختلف شہروں میں سرخ چاند گرہن


سپارکو کے ڈائریکٹر اسپیس سائنسز، غلام مرتضیٰ کے مطابق زمین، چاند، سورج اور مریخ کے بیک وقت ایک دوسرے کے سامنے آنے پر ’سرخ چاند گرہن‘ ہوتا ہے، جبکہ اسے دیکھنے کے لئے کسی دوربین یا خصوصی چشموں کی ضرورت نہیں ہوتی

کراچی ... دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بدھ کے روز ’سرخ چاند گرہن‘ ہوا جس کا نظارہ لاہور، اسلام آباد، کراچی اور فیصل آباد سمیت کئی شہروں میں کیا گیا، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک مثلاً امریکا، جاپان، چین، آسٹریلیا نیوزی لینڈ، کینیڈا اور دیگر بہت سے ممالک میں بھی ’سرخ چاند گرہن‘ ہوا۔

پاکستان کے مقامی میڈیا نے سرخ چاند گرہن سے جڑی خبروں کو نمایاں کوریج دی۔

رپورٹوں میں بتایا گیا کہ چاند گرہن کا دورانیہ5گھنٹے اور18منٹ پرمحیط تھا۔ گرہن مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 16منٹ پر شروع ہوا اورشام 6بجکر34منٹ پر ختم ہوا۔

سپارکو کے ڈائریکٹر اسپیس سائنسز، غلام مرتضیٰ کے مطابق زمین، چاند، سورج اور مریخ کے بیک وقت ایک دوسرے کے سامنے آنے پر ’سرخ چاند گرہن‘ ہوتا ہے، جبکہ اسے دیکھنے کے لئے کسی دور بین یا خصوصی چشموں کی ضرورت نہیں ہوتی۔

دنیا بھر میں سورج کے سرخ ہونے کے منظر کو لوگوں نے اپنے کیمروں میں محفوظ کرلیا۔ کراچی میں اس منظر کو دیکھنے کے لئے انگنت لوگوں نے ساحل سمندر کا رخ کیا۔

الیکٹرونک میڈیا نے چاند گرہن کے مناظر براہ راست نشر کیے جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد بھی اس منظر کے نظارے کرتی رہی۔

دوسرا سرخ چاند گرہن
ماہرین فلکیات کے مطابق رواں سال ہونے والا یہ دوسرا سرخ چاند گرہن تھا۔ اس سے پہلے رواں سال 15اپریل کو بھی سرخ چاند گرہن ہوا تھا جبکہ تیسرا اور چوتھا سرخ چاند گرہن اگلے سال یعنی 2015ء میں ہوگا۔

XS
SM
MD
LG