رسائی کے لنکس

logo-print

وینزویلا: صدر مدورو پر ڈرون سے مبینہ قاتلانہ حملہ


وینزویلا کے صدر مدورو پر مبینہ ڈرون حملہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:42 0:00

وزیرِ اطلاعات کے مطابق حملے میں صدر مدورو اور ان کے ساتھ موجود ملک کی اعلیٰ قیادت محفوظ رہی ہے لیکن فوج کے سات اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

وینزویلا کے صدر نکولس مدورو بارود سے بھرے ڈرون کے ذریعے کیے جانے والے ایک مبینہ قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے ہیں البتہ حملے میں کئی فوجی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

وینزویلا کے حکام کے مطابق حملہ اس وقت کیا گیا جب صدر مدورو ایک فوجی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جو ٹی وی پر براہِ راست دکھائی جارہی تھی۔

واقعے کے وقت کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صدر مدورو اور ان کےساتھ موجود ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس تقریر کے دوران اچانک آسمان کی جانب دیکھنے لگتے ہیں اور اسی دوران پسِ منظر میں دھماکہ سنائی دیتا ہے۔

وینزویلا کے وزیرِ اطلاعات جارج روڈریگز نے کہا ہے کہ واقعہ ہفتے کی شام اس وقت پیش آیا جب صدر مدورو ملکی افواج کی 81 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔

وزیرِ اطلاعات کے مطابق حملے میں صدر مدورو اور ان کے ساتھ موجود ملک کی اعلیٰ قیادت محفوظ رہی ہے لیکن فوج کے سات اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

وینزویلا کے فوجی اہلکاروں نے اس مقام کو گھیر رکھا ہے جہاں مبینہ طور پر ڈرون حملہ کیا گیا۔
وینزویلا کے فوجی اہلکاروں نے اس مقام کو گھیر رکھا ہے جہاں مبینہ طور پر ڈرون حملہ کیا گیا۔

واقعے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مدورو نے دعویٰ کیا کہ حملے کا مقصد انہیں قتل کرنا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ اچانک ایک اڑنے والی چیز ان کی آنکھوں کے سامنے دھماکے سے پھٹ گئی۔

صدر مدورو کے بقول پہلے وہ یہ سمجھے کہ شاید یہ تقریب کے سلسلے میں کیا جانے والا کوئی مظاہرہ ہے لیکن اسی دوران دوسرا دھماکہ ہوا اور تقریب میں بھگدڑ مچ گئی۔

واقعے کے وقت کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دھماکوں کے بعد قطاروں میں ترتیب سے کھڑے فوجی اہلکار تتر بتر ہوگئے جب کہ محافظ صدر مدورو کو اپنے حصار میں تقریب سے لے گئے۔

صدر مدورو نے الزام عائد کیا ہے کہ حملے میں انتہائی دائیں بازو کے عناصر ملوث ہیں جنہیں ان کے بقول کولمبیا کے صدر جوان مینوئل سانتوس اور بگوٹا اور میامی میں موجود وینزویلن باغیوں کی مدد حاصل ہے۔

ملک کی خراب معاشی صورتِ حال کے باعث صدر مدورو ملک میں انتہائی غیر مقبول ہیں۔ (فائل فوٹو)
ملک کی خراب معاشی صورتِ حال کے باعث صدر مدورو ملک میں انتہائی غیر مقبول ہیں۔ (فائل فوٹو)

وینزویلا کی حکومت ملک میں ہونے والی تمام تخریبی کارروائیوں اور حکومت مخالف مظاہروں کا الزام اندرون و بیرونِ ملک موجود حزبِ مخالف کے کارکنوں پر عائد کرتی ہے جو اس کے بقول صدر مدورو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے سرگرم ہیں۔

ایک غیر معروف باغی گروپ 'سولجرز ان ٹی شرٹس' نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بارود سے لدے دو ڈرون صدر کو نشانہ بنانے کے لیے روانہ کیے تھے لیکن انہیں فوجی اہلکاروں نے ہدف پر پہنچنے سے قبل ہی مار گرایا۔

وینزویلا کے اٹارنی جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ قاتلانہ حملے کا ہدف صرف صدر مدورو نہیں بلکہ پوری فوجی قیادت تھی جو حملے کے وقت صدر کے ہمراہ اسٹیج پر موجود تھی۔

اٹارنی جنرل کے مطابق حملے میں ملوث ہونے کے شبہے میں کئی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

بائیں بازو کے نظریات کے حامل صدر مدورو نے 2013ء میں صدر ہیوگو شاویز کے انتقال کے بعد وینزویلا کا اقتدار سنبھالا تھا۔

ان کی حکومت کے آغاز سے ہی وینزویلا شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور گزشتہ پانچ سال سے جاری اس بحران کے باعث قوم کو خوراک اور بنیادی اشیائے ضرورت کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

اس معاشی بحران کے باعث صدر مدورو ملک میں انتہائی غیر مقبول ہیں لیکن وینزویلا کی طاقت ور فوج تاحال ان کے ساتھ ہے جس کے باعث اقتدار پر ان کی گرفت بدستور قائم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG