رسائی کے لنکس

logo-print

سہ روزہ دورے پر مہاتیر محمد کی آمد، پاکستان پریڈ میں مہمان خصوصی ہوں گے


وزیر اعظم کے مشیر، رزاق داؤد نے بتایا ہے کہ ملائیشیا کے ساتھ معاہدے پاکستان کے لیے جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم (آسیان) کی رکنیت کے حصول میں معاون ثابت ہوں گے۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد سہ روزہ سرکاری دورے پر جمعرات کو پاکستان پہنچے۔ اہلکاروں کے مطابق، اُن کے ہمراہ آنے والا اعلیٰ اختیاراتی وفد تقریباً 90 کروڑ ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کے سمجھوتوں پر دستخط کرے گا۔

وزارت خارجہ کے ایک اعلان کے مطابق، ملائیشیائی رہنما 23 مارچ کو یوم پاکستان پریڈ میں مہمان خصوصی ہوں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کے مشیر تجارت نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ مہاتیر کے ہمراہ آنے والی کاروباری شخصیات جمعے کے روز مفاہمت کی تین یادداشوں پر دستخط کریں گے، جن کی مالیت 90 کروڑ ڈالر ہوگی اور ان کا تعلق انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کوم کے شعبہ جات سے ہوگا۔

مشیر رزاق داؤد نے بتایا کہ ملائیشیا کے ساتھ معاہدے پاکستان کے لیے جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم (اے ایس اِی اے این) کی رکنیت کے حصول میں معاون ثابت ہوں گے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ملائیشیائی کاروباری افراد نے اس بات کا بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں، جن میں توانائی اور ٹیکسٹائل صنعت شامل ہے، تاکہ پاکستانی برآمدات میں بہتری لانے میں مدد دی جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کے کارساز ادارے، ’پروٹون‘ نے گذشتہ سال ایک پاکستانی ساجھے دار سے سمجھوتے پر دستخط کیے تھے، تاکہ ملک کے جنوبی شہر کراچی میں کاروں کا ’اسمبلنگ پلانٹ‘ لگایا جا سکے، جو جنوبی ایشیا میں ’پروٹون‘ کی پہلی تنصیب ہوگی۔

وزیر اعظم عمران خان اور اُن کے ملیشیائی ہم منصب جمعے کو ’پروٹون‘ پلانٹ کی تعمیر سازی کا علامتی افتتاح کریں گے۔

گذشتہ اگست میں صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اُن کئی ملکوں سے رابطہ کیا ہے جن کے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جن میں، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ملائیشیا شامل ہیں، تاکہ ملک میں سرمایہ کاری لائی جاسکے اور ملک کو مالی وسائل فراہم ہوں، اور درپیش مالی خسارے میں کمی لائی جاسکے اور زر مبادلہ کو بڑھایا جاسکے۔

حالیہ مہینوں کے دوران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے قرضے کے طور پر پاکستان کے مالی نظام میں چھ ارب ڈالر جمع کرائے ہیں۔ دونوں ملکوں نے واجبات کی ادائگی میں نرمی برتنے کی بنیاد پر تیل درآمد کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ متوقع طور پر چین آئندہ چند روز کے اندر 2 ارب ڈالر سے زیادہ رقم جمع کرے گا۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بڑے منصوبے کے تحت چین نے توانائی اور زیریں ڈھانچے کے منصوبوں میں گذشتہ چھ برس کے دوران 19 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر چکا ہے، جو چین کی جانب سے ’بیلٹ اور روڈ‘ کے بڑے عالمی منصوبے کا ایک جُزو ہے۔

گذشتہ ماہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا جس دوران 20 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری کے سمجھوتے طے پائے، جن میں ملک کے جنوب مغرب میں واقع گوادر کی بندرگاہ کے شہر میں تیل صاف کرنے اور پیٹروکیمیکلز کمپلیکس شامل ہے۔

پاکستانی اہلکاروں نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کی مدد سے 12 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ میسر آئے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG