رسائی کے لنکس

logo-print

ملائیشیا: مہاتیر محمد وزارتِ عظمیٰ کے دوبارہ امیدوار ہوں گے


مہاتیر محمد (فائل فوٹو)

ملائیشیا کے قائم مقام وزیرِ اعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ وہ سابق حکمران اتحاد کی طرف سے وزارتِ عظمٰی کے دوبارہ امیدوار ہوں گے۔ وہ پر امید ہیں کہ ان کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ تعداد موجود ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق مہاتیر محمد کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اپنے طویل مدتی حریف اور سابق حکومتی حلیف جماعت 'پیپلز جسٹس پارٹی' کے سربراہ انور ابراہیم کے ساتھ دوبارہ اتحاد ہو گیا ہے۔ انور ابراہیم کے ساتھ اتحاد میں رہتے ہوئے مہاتیر محمد کی جماعت نے 2018 کے انتخابات میں حیران کن فتح حاصل کی تھی۔

سابق حکومتی اتحاد 'پاکاتان ہراپن' (پی ایچ) نے بھی کہا ہے کہ وہ وزیرِ اعظم کے امیدوار کی حیثیت سے ڈاکٹر مہاتیر کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اس بیان کو انور ابراہیم نے بھی ٹوئٹر پر پوسٹ کیا ہے۔

حکمراں اتحاد پی ایچ نے 2018 کے انتخابات میں 60 سال سے ملائیشیا میں برسرِ اقتدار ‘یونائیٹڈ ملائیاز نیشنل آرگنائزیشن’ (یو ایم این او) کو شکست دی تھی۔ (فائل فوٹو)
حکمراں اتحاد پی ایچ نے 2018 کے انتخابات میں 60 سال سے ملائیشیا میں برسرِ اقتدار ‘یونائیٹڈ ملائیاز نیشنل آرگنائزیشن’ (یو ایم این او) کو شکست دی تھی۔ (فائل فوٹو)

ملائیشیا کے سابق وزیرِ اعظم مہاتیر محمد چند روز قبل ایک ایسے وقت میں مستعفی ہوئے تھے جب ملک میں سیاسی گرما گرمی عروج پر تھی اور ملائیشیا میں نئی حکومت کے قیام کے لیے حکومتی اتحاد اور اپوزیشن دھڑوں کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔

ان مذاکرات کے ایجنڈے میں ملائیشین وزیرِ اعظم مہاتیر محمد کے حلیف انور ابراہیم کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد نہ کرنا بھی شامل تھا۔

وزیر اعظم مہاتیر محمد کے مستعفی ہونے کے بعد ملائشیا کے بادشاہ نے مہاتیر محمد کو بطور قائم مقام وزیرِ اعظم کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

خیال رہے کہ مہاتیر محمد نے انور ابراہیم کے ساتھ مل کر 2018 میں سابق وزیرِ اعظم نجیب رزاق کی پارٹی کو انتخابات میں شکست دی تھی۔ جس کے بعد شراکت اقتدار کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے تحت آدھی مدت کے لیے مہاتیر محمد جب کہ باقی مدت کے لیے انور ابراہیم کو اقتدار ملنا تھا۔

حکمراں اتحاد 'پی ایچ' نے 2018 کے انتخابات میں 60 سال سے ملائیشیا میں برسرِ اقتدار 'یونائیٹڈ ملائیاز نیشنل آرگنائزیشن' (یو ایم این او) کو شکست دی تھی۔

ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد ایسے وقت میں مستعفی ہوئے تھے۔ جب سیاسی گرما گرمی عروج پر تھی. (فائل فوٹو)
ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد ایسے وقت میں مستعفی ہوئے تھے۔ جب سیاسی گرما گرمی عروج پر تھی. (فائل فوٹو)

خود مہاتیر محمد بھی اسی جماعت سے وابستہ تھے۔ لیکن وہ سابق وزیر اعظم نجیب رزاق پر لگنے والے بدعنوانی کے الزامات پر نالاں تھے۔

گزشتہ سال پر وزارتِ عظمی چھوڑنے کا عندیہ دینے کے باوجود مہاتیر محمد مستعفی نہیں ہوئے تھے۔ کچھ حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ مہاتیر محمد سمیت بعض سیاسی رہنما انور ابراہیم کو وزیرِ اعظم نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

مہاتیر محمد نے انور ابراہیم کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے حریف سیاسی جماعت 'یونائیٹڈ ملائیاز نیشنل آرگنائزیشن' (یو ایم این او) کے ساتھ مذاکرات شروع کر رکھے تھے۔

خیال رہے کہ انور ابراہیم کو ہم جنس پرستی کے الزامات کے تحت پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ لیکن شاہی فرمان کے ذریعے اُن کی یہ سزا ختم کی گئی تھی۔

انور ابراہیم 90 کی دہائی میں اپنے اُوپر لگنے والے الزامات سے قبل مہاتیر محمد کے ساتھ بطور ڈپٹی وزیرِ اعظم کام بھی کرتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG