رسائی کے لنکس

logo-print

ملائیشیا میں سیاسی بحران، مہاتیر محمد قائم مقام وزیرِ اعظم کی حیثیت سے واپس


ماہرین کے مطابق مہاتیر محمد اب فیصلہ سازی کے لیے آزاد ہیں۔ اب وہ اس معاہدے سے آزاد ہو گئے ہیں جو 2018 میں انور ابراہیم کے ساتھ کیا تھا۔ (فائل فوٹو)

ملائیشیا کے بادشاہ نے مہاتیر محمد کو بطور قائم مقام وزیرِ اعظم کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے جس کے بعد ملک میں نئی حکومت کے قیام کے لیے سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاتیر محمد کی سیاسی حکمت عملی سے اُنہیں دوبارہ حکومت سازی کے عمل میں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

پیر کو مہاتیر محمد اچانک وزارتِ عظمی سے مستعفی ہو گئے تھے۔ جس سے ملائیشیا میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

قائم مقام وزیرِ اعظم کا منصب سنبھالتے ہی مہاتیر محمد نے اپنی کابینہ تحلیل کرتے ہوئے دوبارہ حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ شروع کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق مہاتیر محمد اب فیصلہ سازی کے لیے آزاد ہیں۔ اب وہ اس معاہدے سے آزاد ہو گئے ہیں جو 2018 میں انہوں نے اپنی اتحادی جماعت کے سربراہ انور ابراہیم کے ساتھ کیا تھا۔ جس کے تحت وہ وزارتِ عظمیٰ کی نصف مدت پوری کرنے کے بعد اقتدار چھوڑنے کے پابند تھے۔

مہاتیر محمد کی سیاسی جماعت 'برساتو' پارٹی کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ پیر کو رات گئے پارٹی رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوا ہے۔ جس میں نئی حکومت کے قیام پر بات چیت ہوئی ہے۔

معاہدے میں شامل ایک اور جماعت ڈیمو کریٹک ایکشن پارٹی بھی مہاتیر محمد کو دوبارہ وزیر اعظم بنانے کی حامی ہے۔ پارٹی کے ایک رُکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر مہاتیر محمد ہی ملائیشیا کے وزیر اعظم بنیں گے۔

مہاتیر محمد کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے چند تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں۔ جس میں وہ وزیرِ اعظم کے دفتر میں دفتری اُمور نمٹا رہے ہیں۔

سیاسی بحران کیوں پیدا ہوا؟

مہاتیر محمد نے انور ابراہیم کے ساتھ مل کر 2018 میں سابق وزیرِ اعظم نجیب رزاق کی پارٹی کو انتخابات میں شکست دی تھی۔ جس کے بعد شراکت اقتدار کا ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت آدھی مدت کے لیے مہاتیر محمد جب کہ باقی ماندہ مدت کے لیے انور ابراہیم کو اقتدار ملنا تھا۔

حکمراں اتحاد پاکاتن ہراپن (پی ایچ) نے 2018 کے انتخابات میں 60 سال سے ملائیشیا میں برسرِ اقتدار یونائیٹڈ ملائیاز نیشنل آرگنائزیشن (یو ایم این او) کو شکست دی تھی۔ خود مہاتیر محمد بھی اسی جماعت سے وابستہ تھے۔

البتہ وہ سابق وزیر اعظم نجیب رزاق پر لگنے والے بدعنوانی کے الزامات پر نالاں تھے۔

لیکن، رواں سال کے اختتام پر وزارتِ عظمی چھوڑنے کا عندیہ دینے کے باوجود مہاتیر محمد مستعفی نہیں ہوئے۔ ماہرین کے بقول مہاتیر محمد سمیت بعض سیاسی رہنما انور ابراہیم کو وزیرِ اعظم نہیں دیکھنا چاہتے۔

لہذٰا، مہاتیر محمد نے انور ابراہیم کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے گزشتہ چند روز سے حریف سیاسی جماعت یونائیٹڈ ملائیاز نیشنل آرگنائزیشن (یو ایم این او) کے ساتھ مذاکرات شروع کر رکھے تھے۔

انور ابراہیم کو ہم جنس پرستی کے الزامات کے تحت پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ البتہ شاہی فرمان کے ذریعے اُن کی یہ سزا ختم کی گئی تھی۔ وہ نوے کی دہائی میں اپنے اُوپر لگنے والے الزامات سے قبل مہاتیر محمد کے ساتھ بطور ڈپٹی وزیرِ اعظم کام بھی کرتے رہے ہیں۔

مہاتیر محمد اور انور ابراہیم (فائل فوٹو)
مہاتیر محمد اور انور ابراہیم (فائل فوٹو)

ملائیشیا کے آئین کے مطابق کسی بھی قانون ساز کو پارلیمنٹ میں حکومت سازی کے دعوے کی بادشاہ سے منظوری لینا ضروری ہے۔

شاہی محل کے مطابق ملائیشیا کے بادشاہ منگل اور بدھ کو 222 اراکین پارلیمنٹ سے الگ الگ ملاقات کر کے صورتِ حال کا جائزہ لیں گے کہ کس اُمیدوار کو اکثریتی اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

مہاتیر محمد دُنیا کے معمر ترین حکمراں ہیں۔ 94 سالہ مہاتیر محمد پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ اُنہوں نے 1981 میں اُس وقت اقتدار سنبھالا تھا جب ملائیشیا کو کئی معاشی چیلنجز درپیش تھے۔ لیکن اُن کے دور میں ملائیشیا نے صنعتی شعبے میں بہت ترقی کی اور وہ 2003 تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے۔

البتہ 2003 میں اُنہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ لیکن سابق وزیرِ اعظم نجیب رزاق پر لگنے والے کرپشن الزامات اور ملائیشیا کی سیاسی صورتِ حال کے پیش نظر 2018 میں اُن کی سیاست میں حیران کُن واپسی ہوئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG