رسائی کے لنکس

logo-print

کرائمیا: ریفرنڈم میں روس سے الحاق کی حمایت


روس کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ریفرنڈم میں روس کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ ڈالنے والے رائے دہندگان کی شرح 95 فی صد سے زائد رہی ہے۔

یوکرین کے خود مختار علاقے کرائمیا کے وزیرِ اعظم نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم میں علاقے کے 93 فی صد سے زائد رائے دہندگان نے روس کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

یوکرین اور امریکہ نے ریفرنڈم کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے جب کہ روس نے ریفرنڈم کو بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے مستقبل کی حکمتِ عملی واضح کرنے سے گریز کیا ہے۔

اتوار کو ریفرنڈم کے اختتام پر کرائمیا کے دارالحکومت سیمفرپول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یوکرین کے نیم خودمختار علاقے کے وزیرِاعظم سرجئی اکسیانووف نے کہا کہ ان کے خیال میں 93 فی صد سے زائد ووٹروں نے روس کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

روس کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ریفرنڈم میں روس کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ ڈالنے والے رائے دہندگان کی شرح 95 فی صد سے زائد رہی ہے۔

ریفرنڈم کمیشن کے نگران میخائل میلے شیوو نے روسی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کی شرح 83 فی صد رہی ہے۔

ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج سامنے آنے سے قبل ہی امریکہ کے صدر براک اوباما نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے جس کے دوران، روسی حکام کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے یوکرین کے استحکام کے لیے مل کر کوششیں کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان اس ٹیلی فونک رابطے سے قبل 'وہائٹ ہاؤس' کے ایک ترجمان نے کرائمیا میں ریفرنڈم کو یوکرین کے آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ عالمی برادری اس کے نتائج تسلیم نہیں کرے گی۔

ترجمان نے کہا تھا کہ روس کی فوجی مداخلت اور تشدد کے خوف تحت ہونے والا یہ ریفرنڈم بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اس کے برعکس روسی حکومت کے مرکز 'کریملن' سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران صدر پیوٹن نے ریفرنڈم کو قانونی قرار دیتے ہوئے صدر اوباما کو بتایا کہ یوکرین کی حکومت روسی زبان بولنے والے یوکرینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور تشدد سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہی ہے۔

بیان کے مطابق روسی صدر نے صدر اوباما کی توجہ یوکرین میں قوم پرستوں کی جانب سے جاری پرتشدد ہتھکنڈوں اور یوکرین حکومت کی ان کے سدِ باب میں عدم دلچسپی کی جانب دلائی اور تجویز دی کہ پرتشدد واقعات کے پیشِ نظر یورپی یونین کو اپنے مبصر یوکرین کے تمام علاقوں میں تعینات کر نے چاہئیں۔

خیال رہے کہ بحیرۂ اسود کے کنارے واقع کرائمیا نسلی اعتبار سے روسی اکثریت کا علاقہ ہے اور ماسکو حکومت کا موقف ہے کہ اس علاقے کے مفادات کا تحفظ اس کا حق ہے۔

یوکرین میں یورپ نواز حزبِ اختلاف کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد روس نواز مظاہرین نے کرائمیا میں احتجاج شروع کردیا تھا جس کی آڑ میں گزشتہ ماہ کے اختتام پر روس نے علاقے میں اپنے فوجی دستے داخل کردیے تھے۔

قیاس ہے کہ کرائمیا میں اس وقت 20 سے 25 ہزار روسی فوجی موجود ہیں جب کہ روس نے یوکرین کی سرحد کے ساتھ بھی مزید ہزاروں فوجی تعینات کر رکھے ہیں جنہیں ہر قسم کے بھاری اسلحے کی معاونت حاصل ہے۔

یوکرین کے اس علاقے میں ریفرنڈم روس کی طرف سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس عمل کے خلاف قرارداد ویٹو کرنے کے ایک دن بعد ہوا ہے۔

امریکہ کی جانب سے سلامتی کونسل میں ہفتے کو پیش کی گئی قرارداد میں زور دیا گیا تھا کہ کرائمیا میں ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم نہ کیا جائے جن کے بارے میں پہلے ہی سے یقین تھا کہ وہ روس کے حق میں ہوں گے۔

سلامتی کونسل میں روس واحد رکن تھا جس نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے اسے 'ویٹو' کردیا تھا جبکہ چین نے یہ کہتے ہوئے اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا کہ اس اقدام سے تصادم اور مسائل پیدا ہوں گے۔

یورپی یونین اور یورپین کونسل نے بھی اپنے بیانات میں کرائمیا میں ہونے والے ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے نتائج تسلیم نہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

دوسری جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کِیو میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے یورپ نواز وزیرِاعظم آرسینی یاٹسنیوک نے کرائمیا کی کی یوکرین سے علیحدگی کی حمایت کرنے والے سیاست دانوں کو "ان کے عمل کی سزا دینے" کی دھمکی دی ہے۔
XS
SM
MD
LG