رسائی کے لنکس

logo-print

لاپتا طیارے کی تلاش کا کام بحرہند تک بڑھ سکتا ہے: امریکہ


وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جے کارنی نے جمعرات کے روز بتایا کہ نئی اطلاعات ملی ہیں، جو ضروری نہیں کہ درست ہوں، کہ بوئنگ 777کوالہ لمپور سے بیجنگ کے اپنے مقررہ راستے سے بھٹک کر بحر ہند کی طرف آچکا تھا

امریکہ کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کے لاپتا مسافر طیارے کی تلاش کا دائرہ بحر ہند تک بڑھایا جاسکتا ہے، جو اُس مقام سے مغرب کی طرف واقع ہے جہاں سے جہاز نے آخری بار رابطہ کیا، جس میں 239 مسافر سوار تھے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جے کارنی نے جمعرات کے روز بتایا کہ نئی اطلاعات ملی ہیں، جو ضروری نہیں کہ درست ہوں، کہ بوئنگ 777کوالہ لمپور سے بیجنگ کے اپنے مقررہ راستے سے بھٹک کر بحر ہند کی طرف آچکا تھا۔

کارنی نے کہا کہ امریکہ دیگر ممالک سے مشورہ کر رہا ہے جو جیٹ طیارے کی تلاش کے کام میں شریک ہیں، تاکہ معلوم کیا جا سکے آیا تلاش کی اِس کارروائی میں کونسے بحری اور فضائی جہازوں کو بحر ہند تعینات کرنا درکار ہوگا۔

گذشتہ چھ روز سے ایشیا کے وسیع علاقے میں پھیلے پانیوں میں لاپتا مسافر طیارے کے تلاش کے سلسلے میں ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو پائی۔

ہفتے کے دِٕن سے کئی طرح کی کہانیاں گردش کر رہی ہیں آیا جیٹ طیارے کے ساتھ کیا ہوا، جس میں مسافر طیارے پر دہشت گردوں کے قبضے سے لے کر، طیارے میں اچانک خرابی پیدا ہونے یا پھر پائلٹ کی خودکشی کیے جانے کے امکانات شامل ہیں۔

ملائیشیا کے وزیر مواصلات، حشام الدین حسین نے اِن خبروں کی تردید کی ہے کہ آخری بار رابطہ کرنے کے بعد فلائیٹ 370کئی گھنٹوں تک پرواز کرتی رہی، اور کہا کہ چین کے سیٹلائٹ کی تصاویر جن میں جہاز کے ملبے کو ویتنام کے جنوب کے پانیوں میں دکھینے کے بارے مین بتایا گیا تھا، ایک اور بیکار سراغ ثابت ہوا۔

اُن کے بقول، ’ہم نے تلاش کے لیے اپنے دستیاب اثاثوں سے کام لیا، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا‘۔

حشام الدین نے کہا کہ ’ملائیشیا ایئرلائنز‘ نے طیارہ بنانے والے ادارے، ’بوئنگ‘ اور انجن تیار کرنے والی ’رولس روئس‘ سے امکانی ڈیٹا کے بارے معلوم کیا، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ اگلے چار گھنٹے تک جہاز اُڑتا رہا اور اضافی 4000کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا گیا۔

جمعرات کے دِٕن اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں ڈیٹا کو بنیاد بنا کر امریکی عہدے داروں کی رائے کا حوالہ دیا گیا۔ یہ ڈیٹا طیارے کے انجن سے ازخود زمین پر موصول ہوتا ہے۔

بدھ کے روز چینی سیٹلائٹ کی تصاویر بھی منظر عام پر آئیں، جن کی بنیاد پر سرکاری ابلاغ عامہ نے خبریں جاری کی تھیں کہ بیجنگ کے لیے پرواز کے اصل راستے میں تین بہت بڑی اشیا کے آثار دیکھے گئے ہیں۔ تاہم، حشام الدین نے کہا کہ بعدازاں جب ملائیشیا نے چینی سفارت خانے سے رابطہ کیا، تو بتایا گیا کہ یہ تصاویر غلطی سے جاری ہوگئی ہیں، اور اِن میں جہاز کے ملبے کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیے۔
XS
SM
MD
LG