رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر پر بیان، ملائیشیا کا بھی بھارت سے تجارت پر نظرِ ثانی کا عندیہ


فائل فوٹو

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد نے عندیہ دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاملات پر نظر ثانی کریں گے۔

مہاتیر محمد کا یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے کہ بھارت ملائیشیا سے تجارت کو محدود کرنے پر غور کر رہا ہے۔

ملائیشیا کے سرکاری خبر رساں ادارے’برناما‘ کے مطابق اتوار کو مہاتیر محمد نے کہا کہ ان کی حکومت بھارت کے ساتھ تجارت کے معاملات پر نظر رکھے گی۔ جس سے متعلق اطلاعات ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں ملائیشین وزیرِ اعظم کے کشمیر سے متعلق بیان کے بعد بھارت ملائیشیا سے تجارت محدود کرنے پر غور کر رہا ہے۔

مہاتیر محمد نے کہا کہ ان کی حکومت بھارت کے اقدامات اور اس سے ہونے والے اثرات کا بھی جائزہ لے گی۔ ان کے بقول بھارت اور ملائیشیا کے درمیان یک طرفہ تجارت نہیں بلکہ باہمی بنیادوں پر ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ملائیشیا کے حکومتی اور صنعتی ذرائع نے گزشتہ ہفتے انہیں بتایا تھا کہ نئی دہلی ملائیشیا سے ناریل کے تیل کی درآمد محدود کرنے کے ذرائع پر غور کر رہا ہے۔

ان کے بقول یہ اقدام مہاتیر محمد کی اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں کشمیر سے متعلق تقریر کے سلسلے میں اٹھایا جا رہا ہے جس میں ملائیشین وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ بھارت نے کشمیر پر حملہ کر کے قبضہ کیا ہوا ہے۔

ملائیشیا کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے تجارتی پابندیوں سے متعلق کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت ملائیشیا سے ناریل کے تیل کا سب سے بڑا درآمدی ملک ہے۔

رواں سال کے ابتدائی نو ماہ میں بھارت اب تک ملائیشیا سے 30 لاکھ 90 ہزار ٹن پام آئل درآمد کر چکا ہے۔ جب کہ ملائیشیا پیٹرولیم مصنوعات، گوشت اور لائیو اسٹاک، دھاتیں اور مختلف کیمیکل بھارت سے درآمد کرتا ہے۔

یاد رہے کہ 5 اگست کو بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے مہاتیر محمد سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا اور انہیں بھارتی حکومت کے اقدامات سے آگاہ کیا تھا۔

جس کے بعد بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 5 ستمبر کو روس میں اپنے ملائیشین ہم منصب مہاتیر محمّد سے ملاقات کی تھی۔ جس میں انہوں نے کشمیر سے متعلق اقدامات پر بھی بات کی تھی۔

صرف ایک ماہ قبل ہونے والی اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے اور باہمی تعلقات مزید بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا۔

بعد ازاں مہاتیر محمد نے 28 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر پر بھی گفتگو کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ جمّوں و کشمیر پر بھارت کی جانب سے حملہ کیا گیا اور قبضہ کر لیا گیا۔

انہوں نے جمّوں و کشمیر کو ایک علیحدہ ملک کہتے ہوئے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود اس 'ملک' پر حملہ کر کے قبضہ کیا گیا، ہوسکتا ہے اس اقدام کی کوئی وجوہات ہوں لیکن یہ تب بھی غلط ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG