رسائی کے لنکس

logo-print

نیوزی لینڈ: مساجد پر حملے کے ملزم پر فردِ جرم عائد


کرائسٹ چرچ حملوں کے مرکزی ملزم کو عدالت لایا جا رہا ہے۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملوں کے مرکزی ملزم کو عدالت نے پانچ اپریل تک ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

ملزم کی شناخت 28 سالہ آسٹریلوی شہری برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ کے نام سے ہوئی ہے جسے حکام نے سفید فام نسل پرست قرار دیا ہے۔

ملزم کو جمعے کو کرائسٹ چرچ کی پولیس نے مساجد میں فائرنگ کے کچھ دیر بعد حراست میں لیا تھا جسے ہفتے کو شہر کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا۔

ابتداً استغاثہ نے ملزم پر قتل کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی ہے۔ لیکن قوی امکان ہے کہ پانچ اپریل کو اس کی اگلی پیشی کے موقع پر اس کے خلاف مزید الزامات کی فردِ جرم پیش کی جائے گی۔

پولیس نے جمعے کو فائرنگ کے واقعے کے بعد برینٹن سمیت تین مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا دیگر دو افراد کا بھی حملوں سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں جمعے کی نماز کے دوران ہونے والی فائرنگ سے 49 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے واقعے کو کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ مارے جانے والے تمام افراد مسلمان ہیں۔

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کی آبادی کی شرح 2013ء کی مردم شماری کے مطابق ایک فی صد سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ ملک میں 50 ہزار کے لگ بھگ مسلمان آباد ہیں جن میں اکثریت دوسرے ملکوں سے آنے والے تارکینِ وطن کی ہے۔

سکیورٹی انتہائی سخت

واقعے کے بعد نیوزی لینڈ میں سکیورٹی الرٹ کا لیول انتہائی حد تک بڑھا دیا گیا ہے اور ملک بھر میں عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں۔

پولیس کے مطابق حملہ آور نے پہلے کرائسٹ چرچ کے وسطی علاقے میں واقعے النور مسجد میں اس وقت فائرنگ کی جب وہاں جمعے کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور فوجی طرز کے لباس میں ملبوس تھا جو کئی منٹ تک نمازیوں پر اندھا دھند گولیاں برساتا رہا۔

ملزم نے اپنے سر پر ایک کیمرہ بھی نصب کر رکھا تھا جس سے وہ اپنی فائرنگ کی ویڈیو فیس بک پر براہِ راست نشر کر رہا تھا۔

فائرنگ سے قبل ملزم نے سفید فام نسل پرستی کے نظریات پر مشتمل اپنا ایک منشور بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شائع کیا تھا۔ منشور میں ملزم نے تارکینِ وطن کو "حملہ آور" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی آمد سے سفید فاموں کی نسل کشی کا خطرہ ہے۔

النور مسجد میں فائرنگ کے دوران حملہ آور گولیاں ختم ہونے پر دوبارہ اپنی کار تک گیا اور وہاں سے دوسری رائفل اٹھا کر پھر مسجد میں نمازیوں کو نشانہ بنایا۔

کئی منٹ تک فائرنگ کے بعد ملزم اپنی گاڑی کے ذریعے سات منٹ کی مسافت پر واقع لِن وڈ کی مسجد میں پہنچا اور وہاں بھی نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی فائرنگ سے النور مسجد میں 41 جب کہ لِن وڈ کی مسجد میں سات افراد ہلاک ہوئے۔ ایک زخمی اسپتال میں دورانِ علاج جانبر نہ ہوسکا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ٹیرنٹ کو فائرنگ کی پہلی اطلاع ملنے کے 36 منٹ بعد اس کی کار سے گرفتا کیا۔ ملزم کی کار سے دھماکہ خیز ڈیوائسز اور دیگر ہتھیار بھی برآمد ہوئے تھے۔ وزیرِ اعظم آرڈرن کے بقول اگر ملزم کو گرفتار نہ کیا جاتا تو اس کا مزید مقامات پر حملوں کا ارادہ تھا۔

زخمیوں کا علاج جاری

کرائسٹ چرچ کے مرکزی اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق اسپتال کے 12 آپریشن تھیٹرز میں پوری رات حملے کے 40 سے زائد زخمیوں کا علاج جاری رہا۔

انتظامیہ کے مطابق ہفتے کی دوپہر تک اسپتال میں 36 زخمی زیرِ علاج ہیں جن میں سے 11 کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق بیشتر زخمیوں کو کئی کئی گولیاں لگی ہیں جس کے باعث ان کے کئی آپریشنز کرنا پڑے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے حکام نے حملے میں مارے جانے والے افراد کے نام جاری کرنا شروع کردیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے لاشوں کی شناخت ہوتی جا رہی ہے، ان کے لواحقین کو مطلع کیا جا رہا ہے۔

حملے کا نشانہ بننے والی دونوں مساجد کو بند کردیا گیا ہے اور لوگ ان کے باہر اظہارِ یکجہتی کے لیے پھول رکھ رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے ہفتے کو کرائسٹ چرچ کے مہاجرین سینٹر کا دورہ کیا اور وہاں مسلمان کمیونٹی کے نمائندوں سے سانحے پر تعزیت کی۔

دوپٹے میں ملبوس وزیرِ اعظم آرڈرن کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وہ پورے نیوزی لینڈ کی طرف سے مسلمان کمیونٹی کے لیے محبت اور حمایت کا پیغام لائی ہیں۔

وزیرِ اعظم نے حملے کے بعد نیوزی لینڈ میں آتشیں اسلحے کے کنٹرول سے متعلق قوانین پر نظرِ ثانی کا بھی اعلان کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG