رسائی کے لنکس

logo-print

نیوزی لینڈ: مساجد میں فائرنگ سے 49 افراد ہلاک


نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 49 افراد کی یاد میں ایک مسجد کے دروازے پر پھول رکھے ہیں۔ 15 مارچ 2019

پاکستان کے ترجمان دفترِ خارجہ محمد فیصل نے بھی میڈیا پر اس حملے میں 4 پاکستانیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ 5 پاکستانی اس حملے کے بعد لاپتا ہیں۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نمازِ جمعہ کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے 49 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے نیوزی لینڈ کی تاریخ میں دہشت گردی کا یہ بد ترین اور سب سے بڑا واقعہ ہے۔

نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر مائیک بش نے دونوں حملوں میں 49 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

وائس آف امریکہ کے پروگرام ویو 360 میں بات کرتے ہوئے پاکستان ایسوسی ایشن آف کینٹربری نیوزی لینڈ کے صدر کلیم الله نے جو حملے کے بعد اسپتال میں تھے، بتایا کہ اس حملے میں کم از کم تین پاکستانی زخمی ہوئے ہیں جبکہ 5 لاپتہ ہیں۔

پاکستان کے ترجمان دفترِ خارجہ محمد فیصل نے بھی میڈیا پر اس حملے میں 4 پاکستانیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ 5 پاکستانی اس حملے کے نتیجے میں لاپتا ہیں۔

پولیس کمشنر مائیک بش فائرنگ کے بارے میں میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔ 15 مارچ 2019
پولیس کمشنر مائیک بش فائرنگ کے بارے میں میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔ 15 مارچ 2019

​پولیس نے کہا ہے کہ حملے کے بعد تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے ایک کو ہفتے کو قتل کے الزامات میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے مساجد پر حملے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔

انہوں نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملوں کے بعد پورے نیوزی لینڈ کے لیے سکیورٹی کو انتہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔

نیوزی لیند کے شہر کرائسٹ چرچ میں فائرنگ کا نشانہ بننے والی النور مسجد۔ 15 مارچ 2019
نیوزی لیند کے شہر کرائسٹ چرچ میں فائرنگ کا نشانہ بننے والی النور مسجد۔ 15 مارچ 2019

دارالحکومت ویلنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے افراد انتہا پسندانہ نظریات رکھتے ہیں اور وہ پولیس کی واچ لسٹ پر نہیں تھے۔

وزیرِ اعظم نے واقعے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات پر پوری طرح عمل کریں۔

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے الزام میں گرفتار ایک شخص آسٹریلوی شہری ہے جو ان کے بقول "انتہا پسند اور دائیں بازو کا دہشت گرد ہے۔"

نمازِ جمعہ کے دوران فائرنگ

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ وسطی کرائسٹ چرچ کی مسجد النور اور اس سے تین کلومیٹر دور لِن وڈ ایونیو پر واقع ایک مسجد میں اس وقت کی گئی جب وہاں جمعے کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔

فائرنگ کرنے والے حملہ آور نے ایک مسجد پر حملے کی ویڈیو مبینہ طور پر اپنے جسم پر لگے کیمرے کے ذریعے سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر بھی کی۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حملہ آور گاڑی میں ایک مسجد پہنچا جس کے بعد اس نے مسجد میں داخل ہو کر وہاں موجود نمازیوں پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں۔

کئی منٹ تک فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور دوبارہ اپنی گاڑی تک گیا، اپنی رائفل لوڈ کی اور دوبارہ مسجد کے ہال میں جا کر زخمیوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔

مبینہ حملہ آور نے حملے سے قبل سوشل میڈیا پر ایک پیغام بھی چھوڑا جس میں اس نے تارکینِ وطن کی آمد کو سفید فام افراد کی نسل کشی کے مترادف ٹہرایا ہے۔

عینی شاہدین نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ النور مسجد میں فائرنگ کرنے والا حملہ آور سفید فام تھا جس نے فوجیوں جیسا لباس، ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں نیوزی لینڈ میں پاکستانی سفیر کا نمبر شیئر کیا ہے تاکہ پاکستانی شہری نیوزی لینڈ میں مقیم اپنے پیاروں اور دوستوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔

​نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر مائیک بش نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پولیس نے مساجد کے نزدیک کئی گاڑیوں سے دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔

پولیس نے کہا کہ فی الوقت یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ واردات صرف کرائسٹ چرچ تک ہی محدود تھی اور اس وقت لوگوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

مساجد بند، لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت

واقعے کے بعد پولیس نے نیوزی لینڈ کی تمام مساجد بند کردی ہیں اور لوگوں کو مساجد سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

واقعے کے بعد سے کرائسٹ چرچ میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور شہر کی سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری گشت کر رہی ہے۔

فائرنگ کے واقعے کے بعد نیوزی لینڈ میں سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ 15 مارچ 2019
فائرنگ کے واقعے کے بعد نیوزی لینڈ میں سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ 15 مارچ 2019

​پولیس نے شہر کے تمام اسکول اور سرکاری عمارتیں خالی کرالی ہیں اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کی آبادی کی شرح 2013ء کی مردم شماری کے مطابق ایک فی صد سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ ملک میں 50 ہزار کے لگ بھگ مسلمان آباد ہیں جن میں اکثریت دوسرے ملکوں سے آنے والے تارکینِ وطن کی ہے۔

وزیرِ اعظم آرڈرن نے بھی کہا ہے کہ قوی امکان ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کی زیادہ تعداد تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کی ہو سکتی ہے۔

نیوزی لینڈ میں پرتشدد جرائم اور فائرنگ کے واقعات کی شرح بہت کم ہے اور دہشت گردی کے اتنے بڑے واقعے اور ہلاکتوں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرائسٹ چرچ کی مساجد پر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ہولناک واقعہ پر، جس میں 49 افراد ہلاک اور بہت سے شدید زخمی ہوئے، ان کی ہمدریاں نیوزی لینڈ کے عوام کے ساتھ ہیں اور امریکہ اس موقع پر نیوزی لینڈ کے ساتھ کھڑا ہے۔

بنگلہ دیشی ٹیم بال بال بچ گئی

فائرنگ کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کرائسٹ چرچ میں موجود تھی جس کے کھلاڑی نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے النور مسجد جا رہے تھے۔

ٹیم کے نائب کوچ نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ ٹیم کی بس مسجد کے باہر رکی ہی تھی جب وہاں فائرنگ شروع ہو گئی۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی ڈرائیور بس کو لے کر وہاں سے نکل گیا۔ کوچ نے بتایا کہ واقعے میں تمام کھلاڑی محفوظ رہے ہیں۔

بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ ہفتے سے کرائسٹ چرچ میں ہونا تھا۔ لیکن فائرنگ کے واقعے کے بعد دونوں بورڈز کی انتظامیہ نے باہمی مشاورت سے بنگلہ دیشی ٹیم کا جاری دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG