رسائی کے لنکس

logo-print

کہتے ہیں شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ لیکن، عملی زندگی میں کبھی کبھی یہ کہاوت غلط بھی ثابت ہوتی ہے اور شوق میں حد سے گزر جانے والے کو لے ڈوبتی ہے۔ ایسا ہی کچھ ہوا ایک امریکی شہری کے ساتھ جسے مرچیں کھانے کے شوق نے اسپتال پہنچا دیا۔

’امریکی نیشنل پبلک ریڈیو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، نیویارک میں کوپرز ٹاؤن کے ’بیسٹ میڈیکل سینٹر‘ کی ایمرجنسی میں 34 سال کا ایک شخص سر میں شدید درد کی وجہ سے آیا۔

بظاہر صحت مند شخص سے جب وہاں موجود ڈاکٹر کلوتھوگن گوناسکرن نے بات کی تو انکشاف ہوا کہ موصوف مرچیں کھانے کے ایک مقابلے میں شریک تھے اور مقابلہ جیتنے کے چکر میں پوری ’کیرولائنا ریپر‘ مرچ کھا گئے۔

بس جناب پھر کیا تھا۔ سر چکرا گیا اور درد کے شدید جھٹکوں نے اسپتال کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ’کیرولائنا ریپر‘ مرچ کا دنیا کی تیز ترین مرچوں میں شمار ہوتا ہے۔

مرچوں کے شوقین اور سردرد کے مریض کے جب ڈاکٹرز نے متعدد ٹیسٹ اور دماغ کا اسکین جسے ’سی ٹی انجیوگرام‘ کیا تو پتا چلا کہ شدید سردرد کی وجہ دماغ میں خون کی نالیوں کا تنگ ہونا تھا۔

ڈاکٹروں کے مطابق، مرچوں میں موجود گرمی پیدا کرنے والا کیمیکل ’کیپسائسن‘ سے یہ ری ایکشن اور دیگر تکالیف ہوتی ہیں۔ مرچ کھانے سے متاثرہ شخص کو اسپتال میں داخل کرلیا گیا۔

فینکس کے مایو کلینک میں شدید سردرد جسے ’تھنڈرکلیپ‘ کہا جاتا ہے کے ماہر اور نیورولوجی کے پروفیسر ٹوڈ شویت کے مطابق انہوں نے کیرولائنا مرچ یا کسی بھی دوسری مرچ سے تھنڈرکلیپ سردرد ہونے کا نہیں سنا۔ لیکن، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تھنڈرکلیپ سردرد کوئی مذاق نہیں ہوتا، بلکہ انتہا درجے کی تکلیف ہوتی ہے۔ یہ درد کبھی ہفتوں بھی جاری رہ سکتا ہے۔

خیر جناب تو مرچیں کھانے والے شخص کی طرف دوبارہ آتے ہیں، جن کی کہانی کا انجام خوشگوار کچھ اس طرح ہوا کہ جب وہ پانچ ہفتے بعد دوبارہ اسپتال آئے اور اسکین کرایا تو ان کی خون کی شریانیں اپنے نارمل سائز پر واپس آچکی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG