رسائی کے لنکس

منیلا کسینو کا حملہ آور قرض میں ڈوبا جواری تھا: پولیس


اس واقعے میں کم ازکم 37 افراد ہلاک ہوئے تھے

فلپائن کی پولیس نے اتوار کو بتایا کہ دارالحکومت منیلا میں ایک کسینو اور شاپنگ کمپلیس میں گزشتہ ہفتے حملہ کر کے درجنوں افراد کو ہلاک و زخمی کرنے والا دہشت گرد نہیں بلکہ قرض کے بوجھ تلے دبا ایک جواری تھا۔

منیلا پولیس کے سربراہ آسکر البیالڈو کا کہنا تھا کہ اس شخص کے خاندان نے اس کی شناخت جیسی کارلوس کے نام سے کی ہے جو تین بچوں کا باپ تھا اور اس کی اپنی بیوی سے علیحدگی ہو چکی تھی۔

یہ شخص محکمہ خزانہ کا سابق ملازم تھا اور اس پر 80 ہزار ڈالر سے زائد کا قرض تھا۔

البیالڈو نے کہا کہ اس انکشاف کے بعد ثابت ہوتا ہے کہ "یہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا۔ یہ تصدیق ہوتی ہے کہ اس واقعے میں ایک ہی شخص ملوث تھا جیسا کہ ہم شروع سے کہتے آ رہے ہیں۔"

ان کے بقول اس شخص نے اپنے جوے کی عادت کو جاری رکھنے کے لیے چند سال قبل اپنی جائیداد اور گاڑی بھی بیچ دی تھی اور اس کے اہل خانہ نے گزشہ ماہ ہی منیلا کے کسینوز سے درخواست کی تھی کہ اس کے داخلے پر پابندی لگائی جائے۔

اس خبر کے منظر عام پر آنے سے قبل ہی حکام نے ایک فوٹیج جاری کی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کارلوس بہت اطمینان کے ساتھ ایک ٹیکسی سے اتر کر بڑے کسینو میں دیگر عام افراد کی طرح داخل ہوتا ہے۔

فوٹیج میں حملہ آور کو دیکھا جا سکتا ہے
فوٹیج میں حملہ آور کو دیکھا جا سکتا ہے

اس سے کچھ ہی دیر وہ اپنے چہرے پر سیاہ ماسک چڑھاتا ہے اور اپنے بیگ سے اسلحہ نکالتا ہے۔

جمعہ کو دیر گئے پیش آنے والے اس واقعے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی تھی اور اس میں کم ازکم 37 افراد مارے گئے تھے۔

تاہم فلپائن کے صدر سمیت دیگر عہدیداروں نے داعش کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG