رسائی کے لنکس

logo-print

منشا بم سپریم کورٹ کے احاطے سے گرفتار


منشا بم ، سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔ 15 اکتوبر 2018

لاهور میں پولیس منشا بم کی تلاش میں سرکردہ رہی لیکن وہ اسلام آباد میں سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ سپریم کورٹ میں میڈیا کے ساتھ گفت گو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے اور ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے نہ تو زمینوں پر قبضے کئے ہیں اور نہ ہی کبھی اور کوئی غیر قانونی کام کیا ہے۔

منشا بم اور اس کے بیٹوں پر زمینوں پر قبضے کے حوالے سے 70 سے زائد مقدمات درج ہیں اور وہ طویل مدت سے پولیس کو مطلوب تھا، مگر تمام تر کوششوں کے باوجود پولیس اسے گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

پولیس نے اس کی تلاش میں کئی مقامات پر چھاپے بھی مارے لیکن اسے گرفتار کرنے میں پوری طرح ناکام رہی تھی۔ جس کے بعد آج جب وہ خود اسلام آباد میں سپریم کورٹ میں پیش ہوا تو پولیس نے اسے احاطہ عدالت سے گرفتار کر کے تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کردیا۔ جس کے بعد انہیں لاهور پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔

منشا بم کون ہے

منشا بم کا اصل نام منشا کھوکھر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ منشا کھوکھر کا نام منشا بم ان کی گہری رنگت اور لہجے کی سختی کی وجہ سے پڑ گیا ۔اور وہ لوگوں میں منشا ”بم” کے نام سے مشہور ہو گیا۔

ایک رپورٹ کے مطابق منشاکھو کھر لاهور کے لینڈ مافیا کا ایک بڑا نام ہے۔ منشا کے خلاف قانونی کارروائیاں تو کی جاتی رہیں لیکن صرف قانونی کاغذوں کی حد تک۔ اسے سزا د لوانے اور مز ید قبضے سے روکنے کے لیے کسی نے بھی جرات نہ کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے سیاسی اور اہم غیر سیاسی شخصیات کے علاوہ لاہور کے متعدد پولیس افسران سے بھی مراسم ہیں، جن میں سے بعض راہنماؤں کے ساتھ تصاویر منظر عام پر بھی آ چکی ہیں۔ اپنے تعلقات کی بنا پر منشا بم کے خلاف قانونی چارہ جو ئی کر نے وا لے پو لیس افسر کو یا تو منع کر دیا جاتا تھا اور یا پھر اسے تبادلے کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور اس کی جگہ منشا بم کی مر ضی کا پولیس افسر تعینا ت کر د یا جا تا تھا۔

منشا بم نے جوہر ٹاؤن کے علاقہ میں وسیع رقبہ پر قبضے بھی کیے۔ سپریم کورٹ نے ان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جس پر حکام نے ان کے چاروں بیٹوں سمیت سب کے شناختی کارڈ منسوخ کر دیے اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے اور پولیس کی جانب سے یہی کہا جاتا رہا کہ کوشش کے باوجود وہ کہیں نہیں مل رہا۔ حتی کہ وہ آج خود سپریم کورٹ میں بقول اس کے گرفتاری دینے کے لیے پہنچا جہاں اسے حراست میں لے لیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG