رسائی کے لنکس

logo-print

لیبیا: درالحکومت پر قبضے کے لیے جھڑپیں جاری، کئی ہلاک


خلیفہ ہفتر کے حامی فوجی طرابلس کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے متحارب دھڑوں کے درمیان لڑائی میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوگئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ لیبیا کی حکومت نے اتوار کی شب ایک بیان میں کہا ہے کہ دارالحکومت کے جنوبی علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں۔

دریں اثنا اقوامِ متحدہ نے متحارب فریقوں سے طرابلس کے نواح میں فوری طور پر دو گھنٹے کے لیے لڑائی روکنے کی اپیل کی ہے تاکہ علاقے میں پھنسے عام شہریوں اور زخمیوں کو وہاں سے نکالا جاسکے۔

لیکن علاقہ مکینوں کے مطابق تاحال کسی فریق نے لڑائی نہیں روکی ہے اور دارالحکومت کے کئی علاقوں میں جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔

حالیہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب لیبیا کے مشرقی حصے میں قائم متوازی حکومت کے حامی فوجی دستوں نے گزشتہ ہفتے مغرب میں واقع دارالحکومت طرابلس کی جانب پیش قدمی شروع کی تھی۔

خلیفہ ہفتر کو متحدہ عرب امارات اور مصر کی حکومتوں کی مدد حاصل ہے۔ (فائل فوٹو)
خلیفہ ہفتر کو متحدہ عرب امارات اور مصر کی حکومتوں کی مدد حاصل ہے۔ (فائل فوٹو)

پیش قدمی کرنے والے فوجی دستوں کی کمان طاقت ور کمانڈر خلیفہ ہفتر کے پاس ہے جو ملک کے مشرقی حصے میں قائم حکومت کے پشتی بان ہیں۔ خلیفہ ہفتر کو متحدہ عرب امارات اور مصر کی حکومتوں کی مدد حاصل ہے جو مسلم شدت پسندوں کے خلاف سخت مؤقف کے باعث ہفتر کو پسند کرتے ہیں۔

طرابلس سمیت ملک کے مغربی علاقے پر قائم حکومت کو امریکہ، اس کے مغربی اتحادیوں اور اقوامِ متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔

طرابلس حکومت کے وزیرِ اعظم فیاض سراج نے خلیفہ ہفتر کی حامی فوج کی پیش قدمی کو بغاوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عبوری حکومت کی فوج ان کے مقابلے کے لیے تیار ہے۔

لیکن عینی شاہدین کے مطابق ہفتر کے حامی فوجی دستے دارالحکومت کے نواحی علاقوں پر قابض ہوچکے ہیں جب کہ شہر کا متروک ہوائی اڈہ بھی ان کے کنٹرول میں چلا گیا ہے۔

عرب نشریاتی اداروں کے مطابق طرابلس کے بعض اضلاع بھی مشرقی فورسز کے کنٹرول میں چلے گئے ہیں۔ لیکن آزاد ذرائع سے ان دعووں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

طرابلس کی سکیورٹی کی صورتِ حال مخدوش ہونے کے پیشِ نظر امریکہ نے شہر میں موجود اپنے فوجی دستے کو "سکیورٹی خدشات" کی بنیاد پر شہر سے نکال لیا ہے۔

امریکی فوج کی افریقن کمان کے مطابق امریکی فوجی اہلکار طرابلس میں سفارتی تنصیبات کے تحفظ اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت کے مشن پر تعینات تھے جنہیں واپس بلالیا گیا ہے۔

لیبیا 2011ء میں مغربی ملکوں کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بدترین ابتری اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔ تیل اور گیس کی دولت سے مالامال اس ملک میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی تمام بین الاقوامی کوششیں اب تک ناکام ہوتی آئی ہیں۔

ملک میں دومتوازی حکومتوں کے علاوہ درجنوں قبائلی ملیشیائیں اور شدت پسند گروہ سرگرم ہیں جو مختلف علاقوں پر قابض ہیں اور ایک دوسرے پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG