رسائی کے لنکس

logo-print

'جج صاحب! براہِ مہربانی مجھے کوٹ لکھپت جیل بھیج دیں'


مریم نواز۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے احتساب کے ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کی ٹیم حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو لے کر شہر کے وسط میں واقع احتساب عدالت پہنچی جہاں عدالت سے ان کے ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر لاہور کی احتساب عدالت کے اطراف راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے تھے۔

مریم نواز کی آمد سے قبل مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سردار ایاز صادق، مریم اورنگزیب، برجیس طاہر، خرم دستگیر، طارق فضل چوہدری اور عطا تارڑ سمیت پارٹی سے وابستہ کارکن بھی عدالت میں پہنچے۔

نیب لاہور نے مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو شریف خاندان کی ملکیت چوہدری شوگر مل کیس میں مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت عدالت میں پیش کیا۔

احتساب عدالت کے جج امیر محمد خان نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو نیب کے وکلا نے عدالت سے مریم نواز کو مزید 15 روز کے لیے نیب کے حوالے کرنے کی استدعا کی۔

نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ دوران تفتیش مریم صفدر اور یوسف عباس کے خاندان کی جائیداد کی تقسیم کے معاہدے کا انکشاف ہوا ہے۔ لہذٰا، مریم نواز سے مزید تفتیش کرنا ضروری ہے۔

نیب کے تفتیشی افسر نے کہا کہ 2008 میں مریم نواز کے اثاثے ان کی آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ مریم نواز نے 1998 میں ٹیلی گرافک ٹرانسفر کے ذریعے صدیقہ سعید محمود نامی خاتون سے 16 کروڑ وصول کیے۔ لیکن ملزمہ کا اس خاتون سے کوئی تعلق واضح نہیں ہو سکا۔

مریم نواز احتساب عدالت پیشی کے موقع پر حمزہ شہباز سے محو گفتگو ہیں۔ (فائل فوٹو)
مریم نواز احتساب عدالت پیشی کے موقع پر حمزہ شہباز سے محو گفتگو ہیں۔ (فائل فوٹو)

مریم نواز کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ 2016 سے چوہدری شوگر مل میں شریف خاندان کے کوئی شیئرز نہیں ہیں۔

مریم نواز کے وکیل نے نیب کی تحویل میں مریم نواز سے نامناسب سلوک کی بھی شکایت کی۔ وکیل امجد پرویز ملک نے بتایا کہ مریم نواز کو جہاں رکھا گیا وہاں شدید تعفن ہے۔ گزشتہ سات روز سے کوئی تفتیش بھی نہیں کی گئی اور صرف ذہنی اذیت دی جا رہی ہے۔

عدالت میں مریم نواز کی تاریخ پیدائش بھی موضوع بحث بنی رہی۔ جج نے استفسار کیا کہ مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے، جس پر نیب کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمہ کی تاریخ پیدائش 1973 ہے۔

مریم نواز نے اس موقع پر احتساب عدالت کے جج کو بتایا کہ ان کی تاریخ پیدائش 28 اکتوبر 1973 ہے۔

مریم نواز کا کوٹ لکھپت جیل جانے پر اصرار

وکلا کا مؤقف سننے کے بعد احتساب عدالت کے جج نے نیب کو مزید ریمانڈ دینے سے انکار کرتے ہوئے مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو 15 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دے دیا۔

حکم سنتے ہی مریم نواز نے جج سے استدعا کی کہ اُنہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا جائے، جس پر عدالت نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ جیل انتظامیہ کو کرنا ہے کہ آپ کو کہاں منتقل کرنا ہے۔

سماعت ختم ہونے پر مریم نواز اور یوسف عباس کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ مریم نواز کے والد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں گزشتہ سال احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سات سال کی سزا کوٹ لکھپت جیل میں کاٹ رہے ہیں۔

مریم نواز کو کب گرفتار کیا گیا تھا؟

نیب لاہور کی ٹیم نے مریم نواز کو آٹھ اگست کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے موجود تھیں۔

قومی احتساب بیورو نے کہا تھا کہ مریم نواز اور ان کے چچا زاد بھائی یوسف عباس کو چوہدری شوگر مل کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG