رسائی کے لنکس

logo-print

ویڈیو اسکینڈل، کیا ہائی کورٹ نواز شریف کی سزا معطل کر سکتی ہے؟


ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی کردار جج ارشد ملک نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی — فائل فوٹو

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے خلاف ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ مرحلہ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ ویڈیو اور اس کے اثرات میں مداخلت کرے۔ بالخصوص متعلقہ ویڈیو کا تعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیل سے ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات پر حکومت یا عدالت کی طرف سے کسی کمیشن کے قیام کی رائے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ویڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) تفتیش کر رہا ہے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے خلاف سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء رانا محمد افضل کہتے ہیں کہ ان کی جماعت سپریم کورٹ کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔ اُس کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ عدالتی دروازہ کھٹکھٹانا ہے یا نہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے رانا محمد افضل نے کہا کہ معزز جج کی خفیہ ویڈیو بنانے پر عدالت یا متعلقہ اتھارٹی کارروائی کر سکتی ہے۔

رانا افضل کہتے ہیں کہ وہ اور ان کی جماعت پاکستان کی عدلیہ کا احترام کرتی ہے لیکن ان کی جماعت ایک کرپٹ جج کو عوام کے سامنے لائی ہے اور اُسے بے نقاب کیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:04 0:00

رانا اٖفضل کے مطابق متعلقہ جج کی اِس کیس میں چونکہ بدنیتی ثابت ہوئی ہے تو نواز شریف کی دی جانے والی سزا سپریم کورٹ معطل کر سکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ارشد ملک نواز شریف سے ملنے چلے گئے۔ مدینہ منورہ بھی گئے تو وہ کسی لالچ میں ہی گئے ہوں گے۔ اگر وہ لالچی جج ہیں تو اُن کا فیصلہ غلط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری قیادت پر تو پہلے بھی مقدمات بنائے گئے ہیں۔ ویڈیو بنانے کی بنیاد پر ایک کیس اور بنا لیں لیکن ہم نے ایک گندے آدمی کو ننگا کر کے قوم کو دکھا دیا۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس شیخ عظمت سعید کے تحریر کردہ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ کنڈکٹ متاثر ہونے کی صورت میں اسلام آباد ہائی کورٹ فریقین کے دلائل سننے کے بعد دوبارہ ٹرائل کے لیے فاضل عدالت کو بھیج سکتی ہے۔

فیصلے کے مطابق کسی بھی ویڈیو کو بطور شہادت قبول کرنا متعلقہ عدالت کا حق ہے۔ متعلقہ عدالت کو دیکھنا ہو گا کہ یہ ویڈیو ایڈٹ شدہ ہے یا حقیقی۔ ویڈیو ریکارڈ کرنے والے شخص کو عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے۔ ویڈیو کو عدالت میں چلایا جانا بھی ضروری ہے۔

'میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے بالکل مطمئن نہیں'
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:40 0:00

'نواز شریف کی سزا معطلی پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا'

سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن مرتضٰی کامران کہتے ہیں کہ عدالت عظمٰی نے اِس کیس میں پانچ باتوں پر روشنی ڈالی ہے جن میں سے سب سے زیادہ اہم ارشد ملک کا مستقبل اور نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل ہے۔

'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے مرتضٰی کامران نے کہا کہ اِس کیس میں چونکہ ایف آئی اے تحقیق کر رہی ایسے میں عدالت بھی تحقیق کرے تو یہ مناسب نہیں ہے۔

بطور ماہر قانون ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مرتضٰی کامران نے کہا کہ نواز شریف کی سزا معطل ہو سکتی ہے یا نہیں، اِس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ اُن کے وکیل پر منحصر ہے کہ وہ اِس نکتے سے کتنا اٹھاتے ہیں یا عدالت میں الگ سے سزا معطلی کی درخواست دائر کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر انہوں نے مزید کہا کہ سب کچھ متعلقہ فورمز پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ کیا کارروائی کرتے ہیں۔ ارشد ملک لاہور ہائی کورٹ جائیں گے کہ عدالت عالیہ اُن کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے اور نواز شریف کے کیس کی اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے تو اسلام آباد ہائی کورٹ دیکھے گی کہ اِس کیس کا نواز شریف کی اپیل پر کیا اثر ہوتا ہے۔ یوں تمام معاملات سپریم کورٹ نے متعلقہ فورمز پر چھوڑ دیے ہیں۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ۔ فائل فوٹو
پاکستان کی عدالت عظمیٰ۔ فائل فوٹو

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُن کے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو جاری کی جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا۔

مریم نواز نے پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا تھا کہ جج نے چونکہ خود اعتراف کر لیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔

جج ارشد ملک نے ویڈیو جاری ہونے کے بعد اگلے روز ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی اور مریم نواز کی دکھائی جانے والی ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے اُس وقت کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے ویڈیو اسکینڈل سامنے آنے پر جج ارشد ملک کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

تجریہ کار سمجھتے ہیں کہ جج ارشد ملک کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ وہ پاکستان کی عدلیہ کے نمائندے ہیں اور ایک اہم کیس کی سماعت کر رہے تھے۔

'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار عارف حمید بھٹی کہتے ہیں کہ جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفیہ میں خود لکھا ہے کہ انہیں عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب بلایا گیا اور سپریم کورٹ نے بادی النظر اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ متعلقہ جج کے خلاف ایکشن لے۔

عارف حمید بھٹی کہتے ہیں کہ جج ارشد ملک کا فیصلہ عدلیہ پر ایک داغ رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا یہ مطلب ہے کہ جج صاحبان عوامی محفلوں میں نہ جائیں۔ آئین اور قانون کے مطابق رہیں۔ اِس فیصلے سے عدلیہ کے لیے تھوڑی سے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایف آئی اے شریف خاندان کے کچھ افراد کو جلد طلب کرنے والی ہے۔

حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ کے اِس فیصلے پر تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر-دو کے جج ارشد ملک نے ہی مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جب کہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کیا تھا۔

نواز شریف اِس وقت کوٹ لکھ پت جیل میں سزا کاٹ رے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG