رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا جیالوجسٹ روبوٹ مریخ کی جانب روانہ


خلائی گاڑی ان سائیٹ کو لیکر خلائی راکٹ لینڈر کیلی فورنیا سے چھوڑا جا رہا ہے۔

ہتھوڑے اور چھینی سے لیس جیالوجی میں مہارت رکھنے والا ایک امریکی روبوٹ خلائی راکٹ لینڈر میں مریخ کی جانب روانہ ہوگیا ہے۔ لینڈر میں ان سائیٹ نامی خلائی گاڑی موجود ہے جو اس راکٹ کی مدد سے چھ ماہ میں 30 کروڑ میل کا سفر کرتے ہوئے 29 نومبر کو سرخ سیارے کی سطح مرتفع پر اترے گی۔

خلائی تسخیر انسانی جبلت میں ہے اور اس کا آغاز بیسویں صدی میں چاند کی طرف بھیجی گئی متعدد خلائی گاڑیوں سے ہوا تھا۔ لگتا ہے کہ چاند کے بارے میں انسان نے کافی معلومات اکٹھی کر لی ہیں اور اب توجہ مریخ جیسے دیگر سیاروں کی جانب مرکوز ہو گئی ہے۔

امریکہ نے اس سے پہلے 2012 میں بھی ایک خلائی گاڑی مریخ کی جانب روانہ کی تھی جس کے ذریعے اس سرخ سیارے کے بارے میں یہ پتا لگانے کی کوشش کی گئی تھی کہ کیا مریخ پر کبھی کوئی دریا یا سمندر موجود تھے اور وہاں کروڑوں سال پہلے زمین کی طرح پہاڑ کیسے وجود میں آئے۔

اس مرتبہ اس مشینی جیالوجسٹ کا ارادہ مریخ کی سطح مرتفع کے نزدیک اپنے ہتھوڑے اور چھینی سے کم سے کم 16 فٹ کی گہرائی تک کھدائی کرکے یہ معمول کرنے کی کوشش کرے گا آیا مریخ میں بھی زمین کی طرح زلزلے آتے ہیں یا نہیں۔

امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کا خیال ہے کہ اُس کے جیالوجسٹ روبوٹ کی مریخ میں موجودگی کے دوران ہر ماہ کم از کم دو زلزلے ضرور پیش آئیں گے۔

مریخ پر روبوٹ کی متوقع کھدائی کا خاکہ
مریخ پر روبوٹ کی متوقع کھدائی کا خاکہ

ناسا کے چیف سائنسدان جم گرین کا کہنا ہے کہ ماہرین یہ جانتے ہیں کہ مریخ پر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ لیکن، اس مرتبہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ مریخ سیارے میں بڑے زلزلوں کو سہارنے کی کتنی اہلیت ہے۔ اس سلسلے میں خلائی گاڑی میں موجود سب سے اہم آلہ سیزمومیٹر یا زلزلہ پیما ہے جسے فرانس کے خلائی تحقیق کے ادارے نے تیار کیا ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ جب اُس کا مشینی جیالوجسٹ مریخ پر پہنچے گا تو دن کے وقت درجہ حرارت 70 ڈگری فارن ہائیٹ یا 20 ڈگری سینٹی گریڈ ہوگا جبکہ رات کے وقت درجہ حرارت منفی 73 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جائے گا۔ جم گرین کے مطابق، یہ معلومات نہایت اہم ہیں کیونکہ مستقبل میں جب انسانی خلاباز مریخ جائیں گے تو اُن کیلئے درجہ حرارت میں اس قدر تبدیلی کو برداشت کرنے صلاحیت ہونا ضروری ہوگی۔

اس کے علاوہ یہ روبوٹ مریخ کے اندرونی حصے اور ساخت کے بارے میں بھی تحقیق کرے گا۔ اس تحقیق سے ناسا یہ بھی اندازہ لگانے کی کوشش کرے گا کہ انسانی خلابازوں کو کب مریخ پر بھیجنا مناسب ہو گا۔ ناسا نے 2030 کے لگ بھگ انسانی خلابازوں کو مریخ روانہ کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔

ناسا کی یہ خلائی گاڑی 26 ماہ تک مریخ پر موجود رہے گی جو مریخ کے ایک سال کے برابر ہے۔

یہ راکٹ لینڈر اس مرتبہ اپنے روایتی بیس کے بجائے کیلی فورنیا کے وینڈن برگ ایئر فورس بیس سے چھوڑا گیا۔ یوں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکہ کے مغربی ساحل کے ایک بیس کو خلائی راکٹ روانہ کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG