رسائی کے لنکس

لندن فلیٹس ریفرنس: نواز شریف، مریم اور صفدر پر فردِ جرم عائد


عدالت میں ملزمان کو پڑھ کر سنائے جانے والی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے لندن میں غیرقانونی اثاثے بنائے، ملزمان نے سپریم کورٹ میں جعلی دستاویزات جمع کرائیں اور اثاثوں کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنس میں فردِ جرم عائد کردی ہے۔

عدالت نے لندن فلیٹس ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ 26 اکتوبر کو طلب کرلیے ہیں۔

جمعرات کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش ہوئے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت میں پیش نہیں ہوئے کیونکہ اس وقت وہ اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی تیمارداری کے سلسلے میں لندن میں مقیم ہیں۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ملزمان کو فردِ جرم پڑھ کر سنائی جبکہ ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف پر فرد جرم ان کی عدم موجودگی میں ان کے نمائندے ظافر خان کے ذریعے عائد کی گئی۔ نیب قانون کی شق 17 سی کے تحت ملزم کی غیرحاضری کے باوجود فرد جرم عائد ہو سکتی ہے۔

تینوں ملزمان پر لندن فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں فردِ جرم عائد کی گئی۔

کیپٹن صفدر کو لندن فلیٹس میں شریک ملزم قرار دیا گیا ہے۔ عدالت لندن فلیٹس ریفرنس میں وزیراعظم کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو مفرور قرار دے چکی ہے۔

مریم نواز پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ لندن فلیٹس کی 2006ء کی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے کیونکہ ڈیڈ میں کلیبری فونٹ کا استعمال کیا گیا جو اس وقت تک لانچ نہیں ہوا تھا۔

عدالت میں ملزمان کو پڑھ کر سنائے جانے والی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے لندن میں غیر قانونی اثاثے بنائے، ملزمان نے سپریم کورٹ میں جعلی دستاویزات جمع کرائیں اور اثاثوں کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے۔

جج احتساب عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہے جس پر مریم نواز اور کپیٹن صفدر نے انکار کیا اور کہا کہ وہ استغاثہ کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

ملزمان نے فردِ جرم پر تحریری جواب بھی عدالت میں جمع کرادیا اور کہا کہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، مانیٹرنگ جج تعینات کر کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی، ٹرائل کا سامنا کریں گے، آئینِ پاکستان شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے۔

احتساب عدالت نے لندن فلیٹس ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ کو سمن جاری کرتے ہوئے 26 اکتوبر کو طلب کرلیا ہے۔

آئندہ سماعت پر گواہ کا بیان قلم بند کیا جائے گا جبکہ وکیلِ صفائی گواہ پر جرح کریں گے۔ لندن فلیٹس ریفرنس کی آئندہ سماعت 26 اکتوبر کو ہوگی۔

اس سے قبل عدالت نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کی جانب سے عدالتی کارروائی اور ٹرائل روکنے کی درخواست مسترد کردی۔

سابق وزیراعظم کی جانب سے احتساب عدالت میں ٹرائل روکنے کی درخواست دائر کی گئی تھی جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی۔

خواجہ حارث کی معاون وکیل عائشہ حامد نے درخواست پر دلائل کا آغاز کیا اور موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ میں تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی نظرِ ثانی اپیل دائر کر رکھی ہے، اس لیے فیصلے تک ٹرائل روکا جائے۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ نوازشریف پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا گیا، جائیداد تعداد میں کتنی ہی کیوں نہ ہو ریفرنس ایک ہی دائر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات اہم نہیں کہ جائیداد ایک ہے یا ایک سو، یہ بات اہم نہیں کہ جائیداد پاکستان میں ہے یا سعودی عرب میں، مطلب صرف ایک ہے کہ تمام اثاثے آمدن سے زائد ہیں جو ان کے بقول ایک واحد فعل ہے۔

عائشہ حامد نے کہا کہ ایک الزام پر صرف ایک ریفرنس دائر ہوسکتا ہے، تمام ریفرنسز میں مماثلت ہے اور تمام ریفرنسز کا انحصار ایک جیسی دستاویزات پر ہے۔

سابق وزیراعظم کی وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ تمام ریفرنسز میں الزام اور ملزمان بھی ایک ہیں، ریفرنسز میں چیزوں کو بار بار پیش کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا نے تحقیقات کی سمری تین مرتبہ الگ الگ والیم میں لکھی، تین ہزار دستاویزات پر مشتمل شواہد تین مرتبہ جمع کرائے گئے، یہ گزارشات ہم سپریم کورٹ میں جمع کراچکے ہیں، نظرثانی درخواست کے تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے۔

نیب پراسیکوٹر نے دلائل دیے کہ نوازشریف کی درخواست کارروائی روکنے کے لیے دی گئی، یہ فوجدای مقدمہ رکوانے کی درخواست ہے اور ضابطہ فوجداری مقدمہ پر حکم امتناع نہیں ہوسکتا۔

استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ یہ کس قانون کے تحت حکمِ امتناع مانگ رہے ہیں، سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ چھ ہفتوں میں ریفرنس تیار کرکے دائر کریں، سپریم کورٹ میں لفظ ریفرنسز دائر کرنے کا کہا گیا، فیصلے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں۔

نیب نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی حکمِ امتناع کی درخواست خارج کرنے اور ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نوازشریف کی عدالتی ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کردی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG