رسائی کے لنکس

logo-print

شہباز شریف کو نواز شریف کا ساتھ نہ چھوڑنے کی سزا دی جا رہی ہے: مریم نواز


لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اُنہیں اس پر کوئی شک نہیں کہ شہباز شریف کو کسی قسم کے احتساب یا الزام پر گرفتار نہیں کیا گیا۔ کیوں کہ ان پر ریفرنس چل رہا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کہتی ہیں کہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے کی صرف ایک وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اُنہیں اس پر کوئی شک نہیں کہ شہباز شریف کو کسی قسم کے احتساب یا الزام پر گرفتار نہیں کیا گیا۔ کیوں کہ ان پر ریفرنس چل رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو عدالتوں کے چکر لگوا کر انہوں نے گرفتار کرنا تھا۔ کیوں کہ فیصلے پہلے لکھ کر لائے ہوتے ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اداروں کے خلاف ہے۔ یا ان کے خلاف بات کرتی ہے۔ چاہے عدلیہ ہو یا کوئی اور ادارہ ہو۔ جب آپ ججز کو بلیک میل کرتے ہیں اور عدلیہ پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ تو اس سے زیادہ کوئی چیز عدالتوں اور اداروں کو متنازع نہیں بنا سکتی۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے خلاف تو کچھ ثابت نہیں ہوا۔ لیکن جن کے خلاف ثبوت سامنے آئے تو وہ کسی کو نظر نہیں آ رہے۔

انہوں نے کہا کبھی شہباز شریف کو گرفتار کر لیا جاتا۔ تو کبھی مولانا فضل الرحمٰن کو نیب کی جانب سے نوٹس بھیج دیا جاتا۔ لیکن ہے کسی میں ہمت کہ وہ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو نوٹس بھیجے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ نیب تو کہتا تھا کہ ہم چہرہ نہیں کیس دیکھتے ہیں۔ ان کے بقول سپریم کورٹ، لاہور ہائی کورٹ و معزز ججز نے نیب کی ساکھ کو مکمل طور پر عیاں کیا ہے کہ نیب ایک سیاسی انجینئرنگ کرنے والا ادارہ ہے۔ تو اس کے بعد تو کوئی شک کی گنجائش نہیں بنتی۔

انہوں نے کہا کہ نیب کی نظر نہ بی آر ٹی پشاور پر جاتی ہے۔ نہ ہی اس کی بسوں میں لگنے والی آگ نظر آتی ہے۔ نیب کو نہ بلین ٹری سونامی منصوبہ نظر آتا ہے۔ نہ ہی انہیں عمران خان کے گھر کا اچانک ریگولرائز ہونا نظر آتا۔ نہ ہی انہیں وزرا کی بدعنوانی نظر آتی۔ نہ ہی نیب کو یہ نظر آتا کہ جہانگیر ترین کو راتوں رات بیرون ملک اسمگل کرا دیا گیا ہے۔

پارٹی کی تقسیم کے حوالے سے مریم نواز کا کہنا ہے کہ ش میں سے ن نکالنے والے یا ن میں سے ش یا م نکالنے والوں کی اپنی چیخیں نکل گئی ہیں۔ کیوں کہ ن میں سے ش نہیں نکلی اور ش میں سے ن نہیں نکلے گی۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قوم، ذرائع ابلاغ اور اس طرح کے فیصلے کرنے والوں سمیت مسلم لیگ (ن) بھی اچھے طریقے سے جانتی ہے کہ شہباز شریف کے خاندان کو کس طرح ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سر توڑ کوشش کے باوجود شہباز شریف نے اپنے بھائی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے وفاداری کی۔ ان کی بیوی اور بیٹوں کو اشتہاری بنا دیا گیا۔

دورانِ پریس کانفرنس مریم نواز نے کہا کہ حمزہ شہباز کو 13 ماہ ہو گئے ہیں وہ جیل میں ہیں۔ لیکن ان سارے اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود شہباز شریف اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے رہے۔

احتساب سب کے لیے ہونا چاہیے: مریم نواز
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:53 0:00

آرمی چیف کی سیاسی رہنماؤں سے ملاقات اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی آرمی چیف سے ملاقات کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو اِن ملاقاتوں سے متعلق بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔

مریم نواز نے کہا کہ بہت سی باتیں میرے بھی علم میں ہیں۔ اگر میں اُن کی باتوں کا جواب دیتی۔ تو بات کہیں سے کہیں نکل جانی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو اِن ملاقاتوں سے متعلق بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یہ اُن کا کام نہیں ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کو قومی سطح کے ایشوز پر بات کرنی چاہیے۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر پاکستان میں کوئی قانون و انصاف ہے تو پھر گرفتاری شہباز شریف کی نہیں عاصم سلیم باجوہ کی ہونی چاہیے تھی۔ کیوں کہ شہباز شریف کے نام 99 کمپنیاں، سیکڑوں فرنچائز نہیں نکلیں۔ شہباز شریف کا تعلق ایک کاروباری گھرانے سے تھا۔ ان کے والد ایک معروف کاروباری شخصیت تھے۔ جب کہ عاصم سلیم باجوہ ایک تنخواہ دار ملازم تھے۔ ان کا لکھ پتی یا کروڑ پتی نہیں بلکہ ارب پتی ہو جانا قابلِ احتساب الزام ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ میڈیا پر دباؤ ڈالا گیا کہ عاصم سلیم باجوہ کی خبر آپ نے نہیں اٹھانی۔ پھر جب ان کا وضاحتی بیان آیا تو کہا گیا کہ اس کو چلاؤ۔ جب کہ ہمیں خبر کا معلوم ہی نہیں تھا۔

شہباز شریف کی گرفتاری کے حوالے سے مریم نواز نے مزید کہا کہ جب عاصم سلیم باجوہ، ان کی اہلیہ جو ایک گھریلو خاتون تھیں، ان کے اثاثے، سرمایہ کاری سامنے آئی، تو کیا نیب کو اور عمران خان کو کیس نظر نہیں آیا۔ ان کے بچے 25، 30 تیس سال کے ان پر انحصار نہیں کرتے۔ تو شہباز شریف کے بچے جو 40 سال کی عمر کے ہیں کیا وہ اپنے کاروبار الگ نہیں کرسکتے؟ ان کے ذاتی کاروبار کو والد سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن عاصم سلیم باجوہ کے کاروبار، ان کی اہلیہ کے اثاثے، ان کے بچوں کے اثاثے کسی کو نظر نہیں آتے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے جو تقریر کی اور جو اے پی سی نے اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس پر سو فی صد عمل ہوگا۔ شہباز شریف نے کہا تھا کہ نواز شریف نے جو تقریر کی میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔ تو یہ بات تو واضح ہے کہ انہیں کسی الزام پر نہیں گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی ایک ذاتی سوچ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مفاہمت کی سیاست بہتر ہے۔ وہ یہ بات نواز شریف، پارٹی اور ہمارے درمیان بھی کرتے ہیں۔ لیکن جب نواز شریف کا فیصلہ آ جاتا ہے۔ تو اس کے آگے شہباز شریف سب سے پہلے انسان ہوتے جو سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ شہباز شریف اُن کے صدر ہیں اور رہیں گے۔ وہ بھی نواز شریف کو اپنا قائد مانتے ہیں اور ان ہی کے حکم پر لبیک کہتے ہیں۔ جس کی انہیں یہ سزا ملی۔

'مسلم لیگ (ن) کے صدر کی گرفتاری عدالتی فیصلہ ہے'

دوسری جانب وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے قائدِ حزب اختلاف شہباز شریف کی عدالتی حکم پر گرفتاری پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر کی گرفتاری عدالتی فیصلہ ہے جسے سیاسی مقدمہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

اسلام آباد میں مشیرِ داخلہ و احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف بہت واضح ثبوت موجود ہیں۔ ان کی گرفتاری کی وجہ یہ ہے کہ وہ عدالت کو مطمئن نہیں کر پائے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ عدالت نے ثبوت دیکھ کر فیصلہ کیا ہے۔ اس گرفتاری کا ذمہ عمران خان پر ڈال کر مقدمے کو سیاسی نہ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اپنے اثاثوں کے ذرائع بتا دیں تو کیس ختم ہو جاتا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جس ریفرنس میں شہباز شریف کی گرفتاری ہوئی وہ منی لانڈرنگ کا کیس ہے۔

ان کے بقول یہ کہنا درست نہیں ہے کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس صرف بچوں کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے عدالتی فیصلے سے ثابت ہوا کہ شہباز شریف عدالتی جنگ ہار گئے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ ڈوب گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف نے اپنے دورِ حکومت میں اپنے رشتہ داروں اور ملازمین کے بینک اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کی جس میں ان کی زوجہ کا اکاؤنٹ بھی استعمال ہوا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی پریس کانفرنس پر ردِ عمل میں شہزاد اکبر نے کہا کہ بھتیجی کی پریس کانفرنس چچا کے خلاف چارج شیٹ تھی۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف کا پارٹی معاملات میں عمل دخل ختم کرنے کے لیے پریس کانفرنس کی گئی اور تسلیم کیا گیا کہ ان کے چچا مفاہمت کی سیاست کرتے ہیں لیکن وہ مفاہمت کی سیاست نہیں کرتیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG