رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لیے مداخلت کرے: مسعود خان


فائل فوٹو

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ، حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ جوہری طاقت کے حامل دو ملکوں کے درمیان کشمیر کے تنازع کے سیاسی حل کے لیے امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھرپور مداخلت کرے۔

مسعود خان نے واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے میں امریکی میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں سات ہفتے سے محاصرہ جاری ہے۔ شہریوں کی آزادی سلب ہو چکی ہے اور ان کا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی میڈیا، حتیٰ کہ بھارت کی اپنی سول سوسائٹی کی تنظیمیں، اپنی حالیہ رپورٹس میں کشمیر میں جاری تکلیف دہ صورت حال سے پردہ اٹھا رہی ہیں۔ خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی ایک بھارتی تنظیم نے بتایا ہے کہ 15 ہزار کے قریب نوجوانوں کو اٹھا کر فوجی کیمپوں میں لے جایا گیا ہے، اور اب انہیں بھارت کے مختلف شہروں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

مسعود خان نے کہا کہ اس صورت حال میں امریکہ کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ محض غیر جانبداری سے کام لے۔

ان کے بقول ’’کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف پاکستان اور بھارت کو جنگ میں جھونک سکتا ہے بلکہ پوری دنیا اس کے اثرات کا سامنا کرے گی۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کے حالیہ بیانات اور چوٹی کے اراکین کانگریس کے امریکی صدر کے نام لکھے گئے خطوط حوصلہ افزا ہیں، جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مداخلت کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور ڈالے کہ وہ کشمیر کا معاملہ حل کرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔

مسعود خان کا کہنا تھا کہ ہیوسٹن میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی جلسے میں صدر ٹرمپ کی شرکت کشمیر پر نئی دہلی کے حالیہ اقدامات کی حمایت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں بھارتی کمیونٹی کے پچاس ہزار سے زائد کے اجتماع سےخطاب میں کہا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کا فیصلہ کشمیریوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کیا گیا ہے اور بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے دو تہائی اکثریت سے اس فیصلے کی توثیق کی ہے۔

پاکستان کی قیادت پر نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا تھا کہ وہ لوگ بھی اس فیصلے پر سیخ پا ہیں جن سے اپنا ملک نہیں سنبھالا جا رہا۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ بھی نریندر مودی کے ہمراہ اسٹیج پر آئے تھے، اور انہوں نے امریکہ اور بھارت کے مشترکہ مفادات، جبکہ دہشت گردی اور سرحدوں کی حفاظت جیسے مسائل پر یکساں چیلنجز کا تذکرہ بھی کیا تھا۔

مسعود خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’کشمیر اور پاکستان میں بھارتی اقدامات اور جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال پر اشتعال بڑھ رہا ہے۔‘‘

ان کے بقول کشمیری پہلے ہی حالت جنگ میں ہیں۔ اگر صورت حال یہی رہی تو لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے خواہش مند پر جوش نوجوانوں کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔ پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان بھی اسی صورت حال کے حوالے سے خبردار کر چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تھا اور خبردار کیا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔

جواب میں بھارت نے کہا تھا کہ جس فورم پر دنیا امن کی بات کرتی ہے، پاکستانی وزیر اعظم وہاں ایٹمی جنگ کی دھمکی دے کر آ گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG