رسائی کے لنکس

بھارتی اور امریکی وزرائے دفاع کے مابین جامع مذاکرات

  • سہیل انجم

نئی دہلی

امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے کہا کہ دونوں ملکوں نے دہشت گردی کے عالمی خطرے کو پہچانا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک دہشت گردی کے شکار ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک بات پر تمام ملکوں میں عالمی سطح پر اتفاق ہے کہ دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا

بھارتی اور امریکی وزارئے دفاع نرملا سیتارمن اور جم میٹس کے مابین دفاعی تعاون سمیت تمام امور پر جامع مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت اور امریکہ کو مزید قریب آنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں نے مشترکہ طور پر دہشت گردی کی مذمت کی۔

امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے کہا کہ دونوں ملکوں نے دہشت گردی کے عالمی خطرے کو پہچانا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک دہشت گردی کے شکار ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک بات پر تمام ملکوں میں عالمی سطح پر اتفاق ہے کہ دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے اور بحر ہند کے تعلق سے بھارت کی کوششوں کی ستائش کی۔ انھوں نے جنگ زدہ افغانستان میں بھارت کے تعاون کا خیر مقدم کیا اور اس کی جانب سے ادا کیے جانے والے رول پر اس کو مبارکباد پیش کی۔

بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتارمن نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے مابین مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری ہے اور دنیا کی دونوں بڑی جمہوریتوں کے مفادات اور بنیادی اقدار مشترک ہیں۔

انھوں نے امریکی وزیر دفاع کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایک سے زائد مرتبہ اس بات کا ذکر کیا کہ امریکہ خطے میں بھارت کو ایک بااثر ملک کی حیثیت سے دیکھتا اور یہ سمجھتا ہے کہ وہ صرف اس علاقے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر کردار ادا کرنا ہے۔

سیتارمن نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین گزشتہ ملکوں میں دفاعی آلات کے تعلق سے تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت امریکہ بھارت کو دفاعی ہتھیار سپلائی کرنے والا کلیدی ملک ہے۔

اس موقع پر بھارت نے افغانستان میں فوج بھیجنے کے امکانات کو مسترد کر دیا۔

سیتارمن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان میں بھارتی فوجی تعینات نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق بھارت ایک طویل عرصے سے افغانستان میں تعاون دے رہا ہے۔ اسکولوں، اسپتالوں اور سڑکوں کی تعمیر میں مدد دے رہا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ہم اپنے تعاون میں اضافہ کریں گے۔

نرملا سیتارمن نے مزید کہا کہ مذاکرات میں دونوں ملکوں نے اس بات کی اہمیت کو محسوس کیا کہ دہشت گردی کو اسٹیٹ پالیسی کے طور پر اختیار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کو جڑ سے مٹانے کی ضرورت ہے۔

جم میٹس نے پاکستان کا نام نہیں لیا، مگر سیتارمن نے ممبئی اور نیویارک میں ہونے والے حملوں میں پاکستان کا ہاتھ ہونے کی بات کہی اور یہ بھی کہا کہ جم میٹس نے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ دہشت گردی کے مسئلے کو پاکستان کے سامنے اٹھائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG