رسائی کے لنکس

میٹس کا شمالی کوریا کو جارحانہ جوہری پروگرام پر اتنباہ


امریکی وزیر دفاع میٹس کی اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب سے ملاقات

امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس نے کہا ہے کہ ان کا ملک شمالی کوریا کو ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کے طور پر کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔

ہفتہ کو سیول میں ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے جارحانہ جوہری اور میزائل پروگرامز اس تنہا قوم کو محفوظ بنانے کی بجائے اس کی سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں۔

میٹس نے شمال کو متنبہ کیا کہ اس کی فوج کا امریکہ اور اس کے اتحادی جنوبی کوریا کی فوجی قوت سے کوئی موازنہ نہیں۔

انھوں نے کہا کہ "کوئی غلطی مت کیجیے گا۔ امریکہ یا اس کے اتحادیوں پر کوئی بھی حملہ پسپا کر دیا جائے گا اور شمال کی طرح سے کسی بھی جوہری حملے کا موثر اور بھرپور ردعمل سامنے آئے گا۔"

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وہ ایک بار پھر اسی بات کو دہرائیں گے جو وہ اس ہفتے اپنے ایشیا کے دورے کے دوران کہتے آئے ہیں کہ شمالی کوریا سے نمٹنے کا ترجیحی راستہ سفارتکاری ہے۔

میٹس اور امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈینفورڈ نے ہفتہ کو جنوبی کوریا کے عسکری عہدیداروں کے ساتھ سالانہ مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔

یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے صدر مون جا اِن کے اپنے اپنے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد پہلا ایسا مشترکہ مشاورتی اجلاس تھا۔

جمعہ کو میٹس نے صدر مون سے ملاقات کے علاوہ پنامنجوم میں امریکی اور جنوبی کوریا کے فوجیوں سے بھی گفتگو کی تھی۔

امریکی وزیر دفاع کے دورہ ایشیا میں تھائی لینڈ اور فلپائن کا دورہ بھی شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG