رسائی کے لنکس

logo-print

پشتون تحریک کی 'کوریج نہ کرنے والے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں'


پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے کی مفصل خبریں صرف بین الاقوامی اور سوشل میڈیا پر ہی دیکھنے میں آئیں جب کہ پاکستانی میڈیا نے اس جلسے سے بڑی حد تک اغماض برتا۔

رواں سال کے اوائل سے شروع ہونے والی پشتون تحفظ موومنٹ کو پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں قابلِ ذکر جگہ نہ دیے جانے پر ملک کے ذرائع ابلاغ کے آزاد اور غیرجانب دار ہونے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے رواں ہفتے پشاور میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا تھا جس میں شرکا نے ایک بار پھر اپنے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ان کے حل کے مطالبات کو دہرایا۔

اس احتجاجی جلسے میں قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں سے خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔

لیکن اس اجتماع کے بارے میں مفصل خبریں صرف بین الاقوامی اور سوشل میڈیا پر ہی دیکھنے میں آئیں۔

خود کو درپیش مسائل پر آواز بلند کرنے والے معاشرے کے ایک حصے کے احتجاج کو ملکی میڈیا میں توجہ نہ دیے جانے پر آزاد حلقوں کی طرف سے خاصی تنقید کی جا رہی ہے۔

انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن بشریٰ گوہر کہتی ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا میڈیا ان کے بقول آزاد نہیں۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بشریٰ گوہر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ذرائع ابلاغ کے کردار پر کئی سوال اٹھتے ہیں۔

"وہ جو کہا جاتا ہے کہ میڈیا آزاد ہے، خود مختار ہے یا پروفیشنل ہے تو پاکستان کا میڈیا پختونوں کے حوالے سے یا بلوچوں کے حوالے سے اور جو پسے ہوئے طبقے ہیں اس ملک میں ان کے حوالے سے جو مسائل ہیں ان کو اجاگر نہیں کرتا۔ اور یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ کیوں فاٹا کے حوالے سے ایک مکمل بلیک آؤٹ میڈیا نے کیا ہے؟ کس کے کہنے پر کیا گیا ہے؟ یا پھر یہ سیلف سینسر شپ کیوں ہے؟"

انھوں نے کہا کہ اگر میڈیا آزاد ہوتا تو کئی دہائیوں سے جو کچھ قبائلی علاقوں میں ہو رہا ہے، میڈیا کے نمائندے وہیں سے ان معاملات کو اجاگر کرتے اور اس کے لیے قبائلیوں کو خود اٹھ کر اسلام آباد آنے کی ضرورت نہیں تھی۔

معروف سینئر صحافی ضیاالدین کے خیال میں پاکستانی الیکٹرانک میڈیا میں خاص طور پر پنجاب یا کراچی کی خبریں زیادہ اہمیت کی حامل دکھائی دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں کچرے کی خبریں یا پنجاب میں مفادِ عامہ کے لیے چیف جسٹس کے مختلف اسپتالوں اور اسکولوں کے دورے وغیرہ کی خبریں ہمارے ذرائع ابلاغ کے لیے زیادہ اہم ہیں۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ضیاالدین کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ کی طرف سے مناسب کوریج نہ دیے جانے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ان کے خیال میں سوشل میڈیا کی موجودگی میں خبریں دبنے کے بجائے پھیلنے لگی ہیں۔

"بلوچستان کی جو آوازیں ہیں ان کی کوریج بھی نہیں ہوتی۔ فاٹا والی بھی نہیں ہوتیں۔۔ پھر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اشتہارات کب کس کو ملتے ہیں، زیادہ مطلب کس قسم کی خبر کو ملتے ہیں۔ پھر بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جو اسٹیبلشمنٹ ہے یا ڈیپ اسٹیٹ جو ہے، اس کا اپنا ایک ایجنڈا ہے اس ملک میں جو 70 سال سے چل رہا ہے۔ ان کے ایجنڈے میں اگر کوئی خبر فٹ نہیں ہوتی ہے تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ اس کو دبا دیا جائے۔ یہ بھی ایک بڑا فیکٹر ہے۔"

ضیاالدین کا کہنا تھا کہ میڈیا اگر اس طرح سے آوازوں کو دبانے کی کوشش کرے گا تو اس سے نہ صرف میڈیا بلکہ ملک کا نقصان ہو گا۔

"میڈیا ایک پبلک سروس کا شعبہ ہے۔ اس کی کچھ اقدار ہوتی ہیں۔ یہ کوئی ٹیکسٹائل انڈسٹری نہیں ہے۔ خبر کیا چیز ہوتی ہے، اگر یہ آپ کو سمجھ نہیں تو پھر آپ کو اس شعبے میں نہیں ہونا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ یہ غلط کر رہے ہیں۔ ادارتی پالیسی جس کی بھی ہے پختونوں یا بلوچوں کی آواز کو دبانے کی، وہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔"

پشتون تحفظ موومنٹ کا مؤقف ہے کہ وہ پشتونوں کے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے مبینہ ناروا سلوک کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور ان مسائل کا پاکستان کے آئین کے تحت حل چاہتے ہیں۔

بشریٰ گوہر کہتی ہیں کہ عوام کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے سننے کی ضرورت ہے اور اسی سے مسئلے حل ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG