رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور: پشتون تحفظ موومنٹ کا جلسہ، علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل


انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کے باعث جلسے کے شرکا، کوریج کے لیے موجود صحافیوں اور سوشل میڈیا رضاکاروں کے علاوہ علاقہ مکینوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پشاور میں ہونے والے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے جلسے کے مقام پر انٹرنیٹ سروس کی غیر اعلانیہ بندش کے باعث صحافیوں اور شرکا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جلسے میں موجود وائس آف امریکہ کے نمائندے کے مطابق انتظامیہ نے وائرلیس انٹرنیٹ سروس کی بندش کا پہلے سے کوئی اعلان نہیں کیا تھا اور نہ ہی بندش کی کوئی وجہ بتائی ہے۔

انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کے باعث جلسے کے شرکا، کوریج کے لیے موجود صحافیوں اور سوشل میڈیا رضاکاروں کے علاوہ علاقہ مکینوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اتوار کو پشاور کے رنگ روڈ پر ہونے والے جلسے میں شرکت کے لیے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع اور قبائلی علاقوں سے قافلے پہنچے ہیں۔

جلسے میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک ہے جب کہ سیکڑوں لاپتا افراد کے لواحقین بھی جلسہ گاہ میں موجود ہیں۔

جلسہ گاہ میں جابجا لاپتا افراد کی تصویروں والے بینرز لگائے گئے ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے صوبے کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور ڈاکٹروں، وکلا اور طلبہ تنظیموں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی انجمنوں کے رہنماؤں کو جلسے میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

جلسے میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک ہے
جلسے میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک ہے

لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا جلسے سے 'پی ٹی ایم' کے علاوہ بھی کسی جماعت کے رہنما خطاب کریں گے یا نہیں۔

پشتون تحفظ تحریک لگ بھگ ڈھائی ماہ قبل قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کے کراچی میں پولیس کے جعلی مقابلے میں ہلاکت کے بعد قائم کی گئی تھی۔

لیکن نسبتاً نوجوان قیادت والی اس تحریک کے کامیاب جلسوں اور مظاہروں نے یہ تاثر دیا ہے کہ یہ تحریک تیزی سے پختون اکثریتی علاقوں میں مقبول ہورہی ہے اور بالخصوص نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے۔

اس تحریک کے سربراہ منظور پشتین کا کہنا ہے کہ ان کی یہ تحریک پاکستان میں آباد پختونوں کے ساتھ سکیورٹی اداروں کے نامناسب سلوک ، ان کی زندگیوں کے تحفظ، لاپتا نوجوانوں کی واپسی اور قبائلی علاقہ جات میں سکیورٹی اداروں کے کردار کے خلاف ہے۔

منظور پشتین کا الزام ہے کہ پاکستان کے مقتدر ادارے ان کی تحریک سے خائف ہیں اور انہیں دھمکیاں بھی ملتی رہتی ہیں لیکن وہ اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کے خلاف پاکستان کے مختلف علاقوں میں ریاست مخالف سرگرمیوں، بغیر اجازت احتجاج اور غداری جیسے الزامات کے تحت مقدمات بھی درج کیے جاچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG