رسائی کے لنکس

logo-print

’پریانکا نہیں مہوش کو امن کا سفیر ہونا چاہیے‘


مہوش حیات

اقوام متحدہ کو یہ مشورہ سماجی ویب سائٹس پر اس کے بعد ملنا شروع ہوا جب پیر کے روز ناروے کے شہر اوسلو میں پاکستانی اداکارہ مہوش حیات کو ’پرائڈ آف پرفارمنس‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اور، انہوں نے اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سنیما کے ذریعے امن کے پیغام کو پھیلانے پر بات کی۔

انھوں نے کہا کہ ہالی ووڈ اور ہمارے ہمسائیہ ملک کی فلموں میں پاکستان کا جو چہرہ پیش کیا جاتا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ مہوش کا کہنا تھا کہ ان قربانیوں کا کہیں ذکر نہیں ملتا جو دہشت گردی کی جنگ میں ہم نے دی ہیں۔ ان داستانوں کو کہیں نہیں دکھایا جاتا جو اس راہ میں ہم پر بیتتی ہیں۔

ان کے اس بیان کے بعد ٹویٹر اور انسٹاگرام کے ساتھ ساتھ دیگر ویب سائیٹس پر صارفین کا رخ، بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا اور پاکستانی نژاد امریکی شہری عائشہ ملک کے مکالمے سے ہٹ کر، پریانکا اور مہوش کے تقابل کی جانب مڑ گیا۔

مہوش حیات کی جانب سے اس اہم موقعے پر اپنی تقریر میں امن کے پیغام کو بہت سراہا گیا اور اقوام متحدہ کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ امن کی گڈول سفیر پریانکا کو نہیں مہوش حیات کو ہونا چاہیے۔

رواں برس 23 مارچ کو جب مہوش حیات کو ’یوم پاکستان‘ کے موقعے پر صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے ’تمغہ امتیاز‘ سے نوازا گیا تو تنقید کا طوفان امڈ آیا اور انڈسٹری میں ان کے ساتھیوں تک نے کہا کہ ان کی محنت اور کارکردگی میں تو شک نہیں، لیکن ان کا سفر ابھی تو شروع ہوا ہے۔ اور سینئر اداکاروں کی موجودگی میں ان کا یہ حق بنتا نہیں تھا۔

لیکن، پیر کے روز اوسلو میں ’پرائڈ آف پرفارمنس‘ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے ان کی تقریر کے بعد بہت سے لوگوں نے لکھا ہے کہ ’تمغہ امتیاز‘ کے موقعے پر ہماری تنقید غلط تھی۔ مہوش نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایوارڈ کی صحیح حقدار ہیں۔

مہر تارڑ نے ٹویٹ کیا کہ دلکش اور باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں اظہار کی صلاحیت بھی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ پاکستان کو اس کی صحیح روح کے ساتھ کیسے پیش کرنا ہے۔

حئی شبیر نے ٹویٹ کیا کہ ’’میں اس بات پر شرمندہ ہوں کہ میں نے مہوش کو ’تمغہ امتیاز‘ ملنے پر ان کا مذاق اڑایا۔ وہ پریانکا چوپڑا جیسی سوچ رکھنے والے افراد کا درست نعم البدل ہیں‘‘۔ ٹویٹر صارف عائشہ خان نے مہوش کے اس بیان کو ’’یوم آزادی کا تحفہ‘‘ قرار دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG