رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کو شکست نہیں ہوئی ہے، جرمن چانسلر


فائل فوٹو

جرمنی کی چانسلر آنگیلا مرخیل نے خبردار کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش کو شکست نہیں ہوئی ہے بلکہ اس تنظیم نے اپنی ہیئت تبدیل کرلی ہے۔

جمعے کو برلن میں ایک تقریب سے خطاب میں مرخیل کا کہنا تھا کہ داعش شام میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے محروم ہونے کے بعد اب چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہوگئی ہے اور بدستور ایک خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ داعش کا اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے محروم ہوجانا ایک خوش قسمتی ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ داعش کا وجود بھی ختم ہوگیا ہے۔

جرمن چانسلر کا یہ بیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان حالیہ بیانات سے متصادم ہے جن میں وہ مسلسل داعش کو شکست دینے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے پہلے پہل گزشتہ سال دسمبر میں ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ داعش کو شام میں مکمل شکست ہوچکی ہے۔

بعد ازاں صدر نے کہا تھا کہ داعش کی شکست کے بعد وہ اپریل تک شام میں تعینات امریکہ کے تمام دو ہزار فوجی اہلکار واپس بلالیں گے۔

امریکی صدر کے اس بیان پر ان کے یورپی اور علاقائی اتحادیوں کے علاوہ خود امریکی وزارتِ دفاع کے اعلیٰ حکام نے بھی تحفظات ظاہر کیے تھے اور امریکی وزیرِ دفاع اور داعش کے خلاف قائم بین الاقوامی اتحاد میں امریکی سفیر اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔

لیکن صدر ٹرمپ اس کے باوجود بارہا داعش کو مکمل شکست دینے کا دعویٰ دہرا چکے ہیں۔ رواں ہفتے ہی امریکی محکمۂ خارجہ میں داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ داعش کی خلافت کا مکمل خاتمہ صرف ایک ہفتے کی دوری پر ہے۔

امریکی صدر کی شام سے متعلق پالیسی کے ناقدین اور یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ داعش کے خلاف قبل از وقت اعلانِ فتح اور شام سے امریکی فوج کی واپسی کے نتیجے میں وہاں شدت پسندوں کو دوبارہ قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے۔

جمعے کو برلن میں خطاب کے دوران چانسلر مرخیل کا کہنا تھا کہ شام میں قیامِ امن اب بھی کوسوں دور ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں جرمن انٹیلی جنس اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ شام کی صورتِ حال پر نظر رکھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG