رسائی کے لنکس

logo-print

برلن: مرخیل کی قدامت پسند پارٹی کی ریاستی انتخاب میں فتح


مرخیل کے مخالف، شُلز نے اتوار کے روز اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ''سوشل ڈیموکریٹس اور میرے لیے یہ بھاری دِن ہے۔ میرا اِسی ریاست سے تعلق ہے، جہاں آج ہمیں بہت بُری شکست ہوئی ہے''

اتوار کو جرمنی میں ہونے والے ریاست کے کلیدی انتخاب میں، جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل کی قدامت پسند پارٹی سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے گنجان آباد علاقے میں اپنے مدِ مقابل، بائیں بازو کے امیدوارں کو شکست دے دی ہے۔


اندازوں پر مبنی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ مرخیل کی 'کرسچین ڈیموکریٹک یونین'، جسے نارتھ رائن، ویسٹ فالیا کے علاقے میں ٹھوس حمایت حاصل ہے، جو 'سوشل ڈیموکریٹ مارٹن شُلز' کا آبائی شہر اور روایتی گڑھ ہے، جو ستمبر کے اواخر میں منعقد ہونے والے قومی انتخاب میں جرمن راہنما کے چیلنجر ہوں گے۔


شُلز نے اتوار کو اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ''سوشل ڈیموکریٹس اور میرے لیے یہ بھاری دِن ہے۔ میرا اِسی ریاست سے تعلق ہے، جہاں آج ہمیں بہت بُری شکست ہوئی ہے''۔


اُنھوں نے اپنی جماعت پر زور دیا کہ وہ 24 ستمبر کو دھیان میں رکھے، جس کے لیے اُنھوں نے کہا کہ ''ہم اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے۔ ہمیں ایسا کرنا ہوگا''۔


'ایگزٹ پول' ظاہر کرتے ہیں کہ کرسچین ڈیموکریٹس نے رائن ویسٹ فالیا میں 34.5 فی صد شرح سے برتری حاصل کی ہے، جہاں ایک کروڑ 19 لاکھ لوگ آباد ہیں، جو جرمن آبادی کی تقریباً ایک چوتھائی کے برابر ہے، جب کہ سوشل ڈیموکریٹس کو 30.5 فی صد شرح سے ووٹ پڑے۔ دیگر پارٹیوں کو اِن دونوں لیڈران کے مقابلے میں بہت کم ووٹ پڑے۔


قدامت پسندوں کے جنرل سکریٹری، پیٹر توبر نے کہا ہے کہ کرسچین ڈیموکریٹک یونین نے 'سوشل ڈیموکریٹس' کے گڑھ میں فتح حاصل کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG