رسائی کے لنکس

امریکہ جانے کا خواب پورا نہ ہوا، میکسیکو نے 311 بھارتیوں کو ملک بدر کر دیا


وسطی امریکی ملکوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کا ایک قافلہ امریکہ جانے کے لیے میکسیکو کے ایک سرحدی قصبے سے گزر رہا ہے۔

میکسیکو کے نیشنل مائیگریشن انسٹی ٹیوٹ (آئی این ایم) کہا کہنا ہے کہ سرحد عبور کر کے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 311 بھارتی باشندوں کو ملک بدر کر دیا ہے۔

بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی باشندوں کے پاس میکسیکو میں رہنے کے لیے درکار دستاویزات بھی موجود نہیں تھیں۔

انہیں تالوکا انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے بوئنگ 747 کے ذریعے نئی دہلی بھیجا گیا ہے۔

ملک بدر کیے جانے والے بھارتی باشندے میکسیکو کی باجا کیلی فورنیا، ویراسکوز، چیاپس، سونورا، میکسیکو سٹی، ڈورانگو اور ٹاپسکو ریاستوں میں امیگریشن حکام کے حوالے کیے گئے تھے۔

یہ کارروائی ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب جون میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر میکسیکو کی سرحد سے امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کا داخلہ روکنے کے موثر اقدامات نہ کیے گئے تو وہ میکسیکو کے تجارتی سامان پر محصولات میں اضافہ کر دیا جائے گا۔

اس دھمکی کے بعد میکسیکو نے اپنی سرحد پر سیکورٹی سخت کرتے ہوئے اور غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کے پروگرام کا دائرہ وسیع کر دیا تھا۔

میکسیکو اور امریکہ کے درمیان سرحد تقریباً دو ہزار میل طویل ہے جس کے کئی مقامات ایسے ہیں جسے غیرقانونی تارکین وطن امریکہ میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انہیں روکنے کے لیے صدر ٹرمپ سرحد پر آہنی دیوار تعمیر کر رہے ہیں۔

میکسیکو سرحد عبور کرنے والوں میں صرف میکسیکو کے باشندے ہی نہیں ہوتے بلکہ آس پاس کے ملکوں اور دوسرے براعظموں کے غیر قانونی تارکین وطن بھی یہ راستہ اختیار کرتے ہیں۔

میکسیکو کے امیگریشن حکام نے کہا ہے کہ بھارتی باشندوں کی اپنے وطن واپسی میں بھارتی سفارت خانے نے بہت تعاون کیا اور ان کی شناخت میں مدد دی۔

میکسیکو کا کہنا ہے کہ 311 بھارتی باشندوں کی اپنے ملک میں واپسی کے عمل میں غیر ملکیوں کی بے دخلی سے متعلق انسانی حقوق کے قواعد پر عمل کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG