رسائی کے لنکس

logo-print

میکسیکو: امریکی سرحد میں گھسنے والے تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کا اعلان


تقریباً 5000 افراد، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ہنڈورس، گوٹے مالا اور ایل سلواڈور سے ہے، قافلوں میں سفر کرتے ہوئے میکسیکو امریکہ کے ایک سرحدی گزرگاہ پر جمع  ہو چکے ہیں تاکہ امریکہ میں پناہ حاصل کر سکیں۔

میکسیکو نے کہا ہے کہ وہ وسطی امریکہ سے آنے والے تقریباً ایک سو تارکین وطن کو واپس بھیج دے گا جنہوں نے ایک روز پہلے ایک ہلے میں امریکی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی تھی۔

یہ ایک سو کا گروپ, ان ہزاروں تارکین وطن میں شامل ہے جو امریکہ جانے کی کوشش میں میکسیکو اور امریکہ کی درمیانی سرحد پر اکھٹے ہو چکے ہیں۔ لیکن تقریباً ایک سو افراد کے اس گروپ نے غیر قانونی طریقے سے تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی تھی۔

میڈیا چینلز میں دکھائے جانے والی ویڈیو فوٹیج میں درجنوں افراد میکسیکو کے شہر تیوانا کے قریب سرحد پر نصب باڑ کی جانب بھاگتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکہ کی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی وزیر کرسچن نیلسن نے کہا ہے کہ تارکین وطن کے قافلے نے کسٹمز اور بارڈر پٹرول کے اہل کاروں پر مختلف چیزوں سے حملہ کیا جنہیں منتشر کرنے کے لیے انہیں اشک آور گیس کے گولے فائر کرنے پڑے۔

میکسیکو کی وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکام نے تقریبا ً 500 افراد کے ایک گروپ پر قابو پا لیا جو سین سیڈرو کے نزدیک پرتشدد طریقے سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان میں سے جن کی شناخت ہو رہی ہے انہیں فوری طور پر اپنے ملکوں میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ میکسیکو حکومت کی پالیسی کے تحت جس میں انسانی حقوق اور قانون پسند تارکین وطن کے احترام کو ملحوظ رکھا جاتا ہے، تارکین وطن کو کنٹرول کرنے کے لیے فوجی دستے تعینات نہیں کیے گئے، لیکن سرحد کے ان مقامات پر ریاستی طاقت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جہاں سے تارکین وطن نے سرحد پار جانے کی کوشش کی۔

تیوانا کی حکومت نے کہا ہے کہ عہدے داروں نے 39 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

تقریباً 5000 افراد، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ہنڈورس، گوٹے مالا اور ایل سلوڈور سے ہے، اپنے ملکوں میں غربت اور تشدد سے نجات کے لیے قافلوں کی شکل میں سفر کرتے ہوئے میکسیکو امریکہ کے ایک سرحدی مقام تیوانا جمع ہو چکے ہیں تاکہ امریکہ میں پناہ حاصل کر سکیں۔

سین سیڈرو امریکہ اور میکسیکو کے درمیان مصروف ترین سرحدی گزر گاہ ہے اور اس وقت حکام وہاں روزانہ پناہ کی تلاش میں آنے والے لگ بھگ 100 افراد کو پراسس کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG