رسائی کے لنکس

logo-print

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ، ایران کیا کر سکتا ہے؟


بیشتر تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں امریکیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے نئے کمانڈر اسماعیل غنی نے بھی امریکہ سے جنرل قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب تک کسی کو یہ معلوم نہیں کہ ایران امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے میجر جنرل قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کے لیے کہاں حملہ کر سکتا ہے۔

وائس آف امریکہ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تہران جوابی کارروائی نہیں کرے گا جب کہ کچھ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے پاس بدلہ لینے کے لیے عراق، شام، لبنان اور یمن میں اہداف موجود ہیں۔

کچھ امریکی حلیفوں کو امریکہ سے یہ شکایت ہے کہ اُنہیں جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے کے منصوبے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ لہذا اُنہیں واقعے کے بعد نتائج کا سامنا کرنے کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کرنا پڑ رہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہفتے کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران انتقامی کارروائی کرتا ہے تو اسے شدید اور فوری نوعیت کے حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی صدر نے اپنی ٹوئٹ میں ہفتے کو کہا تھا کہ امریکی تنصیبات یا امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کی صورت میں ایران کے 52 اہداف امریکہ کے نشانے پر ہوں گے جن میں ایران کے ثقافتی مقامات بھی شامل ہیں۔

برطانیہ کے فوجی سربراہان ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ پر مشاورت کر رہے ہیں کہ عراق میں پہلے سے موجود 400 فوجیوں اور خلیج میں ایک ہزار سے زائد فوجیوں کی حفاظت کے لیے مزید فوجی بھیجے جائیں یا نہیں۔

برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن پہلے ہی یہ مشورہ مسترد کر چکے ہیں کہ عراق میں برطانوی فوجیوں کو بھاری ہتھیاروں کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔

لندن کو خدشہ ہے کہ ایران پراکسی بغداد میں برطانوی سفارت خانے کے کمپاؤنڈ پر حملہ کر سکتا ہے تاکہ برطانوی شہریوں کو ہلاک یا اغوا کیا جاسکے۔

برطانوی وزیرِ دفاع بین ویلس نے اتوار کو خلیج میں موجود برطانوی بحریہ کے دو جنگی جہازوں کو آئل ٹینکرز کی حفاظت کے لیے قریب تر رہنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

یہ اقدام اس خدشے کے پیش نظر اٹھایا گیا تھا کہ کہیں ایران مغربی ممالک کے جہازوں کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہ پہچا سکے یا ان کا راستہ نہ بند کر دے۔

پاسدارانِ انقلاب کے نئے کمانڈر نے بھی امریکہ سے جنرل قاسمی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے نئے کمانڈر نے بھی امریکہ سے جنرل قاسمی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

ایک سینئر برطانوی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس پلان اے اور پلان بی، دونوں موجود ہیں جن پر ایران کی جانب سے حملے کی صورت میں عمل کیا جاسکتا ہے۔

ادھر فرانس اور ہالینڈ نے امریکہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو عراق چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ عراق میں ہفتے کو دو راکٹ بغداد میں امریکی سفارت خانے کے قریب گرائے گئے تھے۔

بیشتر تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں امریکیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

جنوبی ایران میں قاسم سلیمانی کے آبائی صوبے کرمان میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل ابو حمزہ نے آبنائے ہرمز پر جانے والے تیل بردار بحری جہازوں پر حملے کا عندیہ دیا تھا۔

ان کا دعویٰ تھا کہ خطے میں تقریباً 35 امریکی اہداف کے ساتھ ساتھ تل ابیب ہماری دسترس میں ہے۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ اپنے دفاع کو مزید سخت بنارہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں حزب اللہ نامی تنظیم قاسم سلیمانی کے قتل کے رد عمل کے طور پر کوئی بھی انتقامی کاروائی کرسکتی ہے۔

حزب اللہ کی دھمکیاں

حزب اللہ کے ایک لبنانی عہدیدار نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کا رد عمل فیصلہ کن ہوگا۔

حزب اللہ کی دھمکیوں میں ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کے الفاظ کی بازگشت سنائی دیتی ہے جن کا کہنا ہے کہ تہران قاسم سلیمانی کے قتل کا سخت انتقام لے گا۔ انہوں نے ایک بار قاسم سلیمانی کو زندہ شہید کہا تھا۔

فوری انتقامی کارروائی کیا ہوسکتی ہے؟

جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے ایران کے پاس فوری کارروائی کے لیے میدان عراق ہوگا جہاں اس کی حامی ملیشیا موجود ہے۔

ایران کے حامی عراقی ملیشیا کے طاقتور رہنما قیس الخزالی نے اپنے جنگجوؤں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

انہوں نے ایران کے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کے دوران بیان دیا تھا کہ قاسم سلیمانی پر حملے کی قیمت، عراق میں امریکی فوج کے مکمل خاتمے کی صورت میں ہوگا۔

لندن اسکول آف اکنامکس مشرق وسطیٰ کے ماہر ٹوبی ڈوج کے مطابق انتقامی کارروائی کے لیے عراق کو مرکز بنایا جاسکتا ہے۔

لیکن عراق اور شام سے باہر اہداف کی فہرست تشویش ناک حد تک لمبی ہے اور بحر اوقیانوس کے دونوں جانب کے فوجی اور خفیہ اداروں کے عہدے دار اس بات کا اندازہ لگانے کی کوششوں میں ہیں کہ ممکنہ طور پر تہران کب اور کہاں حملہ کرے گا۔

نامعلوم امریکی عہدیداروں نے نشریاتی ادارے 'سی این این' کو بتایا تھا کہ وہ ایران کو مختصر اور درمیانے فاصلے پر بیلسٹک میزائلوں کے لانچ کی تیاریاں تیز کرتے دیکھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دوسرے تجزیہ کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران خطے میں موجود واشنگٹن کے حامیوں پر طیش کا مظاہرہ نہیں کرے گا بلکہ وہ اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح وہ امریکی حمایت ترک کر دیں۔

جنرل سلیمانی پر حملے کے لیے قطر سے میزائل داغے گئے تھے جب کہ قطر اپنے وزیر خارجہ محمد بن عبد الرحمٰن الثانی کو تہران کے دورے پر بھیج چکا ہے تاکہ ایران کے غصے میں کمی لائی جا سکے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق عبدالرحمن الثانی نے ایرانی صدر حسن روحانی کو بتایا کہ ماضی میں امریکہ کی جانب سے اس طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ امریکہ کی حالیہ کارروائی پر بے چین اور پریشان ہیں۔

مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر روحانی نے بیان دیا تھا کہ تہران توقع کرتا ہے کہ اس کے ہمسایہ ممالک اور خلیجی ملک سعودی عرب، امارات وغیرہ قاسم سلیمانی پر حملے کی واضح طور پر مذمت کریں۔

مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ قاسم سلیمانی پر حملے سے ایران کو دھچکا لگا ہے لیکن خطے میں مقیم سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ان کا سرکاری رد عمل اس لیے بھی محتاط انداز کا ہے کہ وہ ایران کے رد عمل سے گھبرائے ہوئے ہیں۔

ایرانی اہداف

مغربی عہدیداروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطر کسی ایرانی ہدف کی فہرست میں شامل نہیں ہے کیوں کہ دوحہ، خطے میں ایران کے مختلف سفارتی اقدامات کا حامی رہا ہے۔

مشرق وسطی کے تجزیہ کار چارلس لیسٹر کا کہنا ہے کہ بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو ایران کی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یمن میں ایران نواز حوثی باغی سعودی عرب اور امارات کی فورسز کو نشانہ بنا سکتے ہیں جہاں ایران اور سعودی عرب ایک طویل عرصے سے پراکسی جنگ میں مصروف ہیں۔

یورپی انٹیلی جنس حکام بھی ایرانی سائبر حملوں سے خوفزدہ ہیں۔ 2017 میں ایران پر برطانوی پارلیمنٹ کے کمپیوٹر سسٹم پر سائبر حملے کے پیچھے بھی ایران کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔

یورپی اتحادیوں کے ایک برطانوی انٹیلی جنس کے عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "مجھے نہیں لگتا کہ تہران دیگر یورپی ریاستوں پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ ایران کو واشنگٹن اور یورپی باشندوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے میں زیادہ دلچسپی ہے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG