رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے خلاف علاقائی حمایت کے حصول کی کوششیں، پومپیو کا دورہٴ مشرق وسطیٰ


پومپیو نے اس تاثر کو خارج از امکان قرار دیا کہ نیتن یاہو سے اُن کی ملاقات کو امریکہ کی جانب سے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت گردانہ جا سکتا ہے۔

ایسے میں جب امریکہ ایرانی جارحیت کے خلاف نئی حمایت کےحصول کے لیے کوشاں ہے، علاقائی سالمیت پر بات چیت کے لیے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔
منگل کی رات گئے پومپیو نے کویت کے دورے کا آغاز کیا، جب کہ بدھ کو اسرائیل روانہ ہوئے۔ اپنے دورے کے دوران، وہ لبنان بھی جائیں گے۔
اسرائیل میں پومپیو وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو سے ملاقات کرنے والے ہیں، جن کی پارٹی 9 اپریل کو ہونے والے مشکل نوعیت کے عام انتخابات میں دوبارہ حصہ لے رہی ہے، جب کہ نیتن یاہو مبینہ بدعنوانی کی چھان بین میں الجھے ہوئے ہیں، اور اُنھیں رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور خیانتِ مجرمانہ کے مبینہ الزامات کا سامنا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہوتے ہوئے، اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران پومپیو نے اس تاثر کو خارج از امکان قرار دیا کہ نیتن یاہو سے اُن کی ملاقات کو امریکہ کی جانب سے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت گردانہ جا سکتا ہے۔
امریکی محکمہٴ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ پومپیو نیتن یاہو کے مخالفین سے ملاقات نہیں کریں گے، بلکہ صرف اسرائیلی حکومت کے موجودہ سربراہ نیتن یاہو سے ملیں گے۔
نیتن یاہو آئندہ ہفتے ’امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی‘ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے، جو امریکہ میں یہودی لابیئنگ کا ایک طاقت گروپ ہے؛ اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کریں گے۔
پومپیو نے کہا ہےکہ مغربی کنارے اور شام کی گولان ہائیٹس کو ’’اسرائیل کا زیر قبضہ‘‘ علاقہ نہ کہنا بلکہ ’’یہودی زیر کنٹرول‘‘ علاقہ کہنا اتفاقی امر نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ تبدیلی انسانی حقوق کے بارے میں امریکی محکمہٴ خارجہ کی جاری کردہ تازہ عالمی رپورٹ میں نظر آتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ متنازع علاقہ جات کو اسرائیلی زیر کنٹرول کہنا ’’حقیقت پر مبنی بیان ہے، اور یہ کہ ہم صورت حال کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حقیقت کے عین مطابق ہے، اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں‘‘۔
پومپیو نے کہا کہ بیروت میں اپنے دورے کےتیسرے مرحلے کے دوران ’’ہم لبنانی حکومت کے ساتھ بہت دیر تک گفت و شنید کریں گے آیا وہ ایران اور حزب اللہ کے خطرے سے اپنے آپ کو کس طرح آزاد کر سکتے ہیں‘‘۔
امریکہ شدت پسند اسلامی سیاسی گروپ، حزب اللہ کو ایران کی حامی دہشت گرد تنظیم خیال کرتا ہے، حالانکہ وہ وزیر اعظم سعد حریری کی اتحادی حکومت کا حصہ ہے، جو امریکی اتحادی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG