رسائی کے لنکس

logo-print

ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی اکثریت، سینیٹ پر ری پبلکنز کا کنٹرول


امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو برتری ملی ہے جبکہ سینیٹ میں اب تک رپبلکنز کو سقت حاصل ہے۔

امریکی کانگریس میں اس تقسیم کے بعد صدر ٹرمپ کو آئندہ دو برس میں قانون سازی کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

امریکہ میں ہونے والے ان انتخابات کو صدر ٹرمپ کی صدارت کے ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو 219 اور رپبلکنز کو 193 نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان 435 ارکان پر مشتمل ہے اور ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے لیے 217 نشستیں درکار ہیں۔

گذشتہ آٹھ برسوں میں یہ پہلی بار ہے جب ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو واضع برتری ملی ہے۔ جس کے بعد ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کی جانب سے کی گئی قانون سازی میں نہ صرف رکاوٹ ڈال سکتے ہیں بلکہ ایوان کی اہم امور پر کمیٹیوں میں بھی اپنا اثرروسوخ دکھا سکتے ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی کی رہنما نینسی پلوسی نے اپنی کامیابی کے موقع پر خطاب میں کہا کہ’ آج کا مقابلہ ڈیموکریٹس اور رپبلکنز سے زیادہ ٹرمپ انتظامیہ کا آئینی احتساب تھا۔‘

بعض ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت سمیت صدر ٹرمپ کی ٹیکس ادائیگیوں اور کاروباری معاملات کو جاننے کا مطالبہ کر سکتی ہیں

ورجینیا سے کامیاب ہونے والی ڈیموکریٹ گانگریس رکن جینیفر ویکسٹن
ورجینیا سے کامیاب ہونے والی ڈیموکریٹ گانگریس رکن جینیفر ویکسٹن

یہی نہیں بلکہ ڈیموکریٹس، ری پبلکنز سے گورنرز کی 4 نشستیں چھینے میں بھی کامیاب رہے۔

گورنرز کے انتخاب میں 50 میں سے ری پبلکنز کے 23 اور ڈیمو کریٹس کے 19 گورنر کامیاب ہوئے۔

ڈیموکریٹس نے آج سب سے پہلی اہم کامیابی ورجینیا کے مضافاتی علاقے میں حاصل کی جہاں سے جینیفر ویکسٹن کانگریس رکن منتخب ہو گئی ہیں۔

سینیٹ پر رپبلکن پارٹی کا کنٹرول

سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو 51 سیٹوں کی ضرورت تھی تاہم ری پبلکن پارٹی نے سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا اور 51 نشستیں جیت لیں جب کہ ڈیموکریٹس نے 45 سیٹں حاصل کیں۔ ڈیموکریٹس کے پاس پہلے سے 23 نشسیں موجود تھیں۔

دوسری جانب ری پبلیکنز کے پاس پہلے سے 42 نشستیں موجود تھیں اور انہیں بالادستی کے لیے محض 9 ارکان کی ضرورت تھی۔ ری پبلیکنز کے دو سینیٹر کامیاب ہوئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ کا کنٹرول ڈیموکریٹ کے لیے بہت مشکل تھا۔ البتہ وہ ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کر سکتے ہیں۔

پینسلوانیا کے قصبے ڈولیس ٹاؤن کا ایک پولنگ سینٹر ۔ 6 نومبر 2018
پینسلوانیا کے قصبے ڈولیس ٹاؤن کا ایک پولنگ سینٹر ۔ 6 نومبر 2018

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گنتی میں سبقت کے پیش نظر یہ امکان موجود ہے کہ ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان کی 235 کے لگ بھگ نشستیں جیت سکتے ہیں۔

وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان کے لیے 237 خواتین امیدوار بھی الیکشن لڑ رہی ہیں جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ ان میں 185 کا تعلق ڈیموکریٹس اور 52 کا ری پبلیکنز سے ہے۔ سینیٹ کے لیے 23 خواتین مقابلہ کر رہی ہیں۔

خواتین کی کامیابی سے کانگریس میں ان کی نمائندگی پہلی بار 20 فی صد سے بڑھ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں خواتین کے انتخابی اکھاڑے میں اترنے کی وجہ’ می ٹو‘تحریک، خواتین کی جانب صدر ٹرمپ کا رویہ، جنسی ہراساں کیے جانے کے واقعات اور اسقاط حمل کے حق سے متعلق ری پبلیکنز پارٹی کی پالیسیاں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG