رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی انتخابی مہم میں مساجد کا اہم کردار


امریکہ کی مساجد مسلمان نمازیوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ان میں سے بیشتر مساجد میں گزشتہ جمعے کے روز آئماء کرام نے اپنے خطبے میں ووٹنگ کی اہمیت کو موضوع بنایا۔ اس سلسلے میں منیاپولس کی مسجد ’دارالحجرا‘ کے امام شیخ عبدالرحمان شریف نے نماز جمعہ کے بعد ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ اُنہوں نے اپنے خطبے میں نمازیوں کو سمجھایا کہ انتخابات میں ووٹ دے کر اپنی رائے کے اظہار کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ لہذا، اُنہیں باہر نکل کر ووٹ ضرور ڈالنا چاہئیے۔

امام شریف کا کہنا تھا کہ ووٹنگ میں حصہ لینا مساجد کے عمومی نظریے کا اہم حصہ ہے اور یہ تبدیلی لانے کا واحد ذریعہ ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ’’اس وقت امریکی سیاست میں بہت زیادہ تقسیم اور منافرت پائی جاتی ہے۔ لہذا، اگر مسلمان یہاں کے نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو اُنہیں باہر نکل کر ووٹ ڈالنا ہو گا‘‘۔

اطلاعات کے مطابق، بعض مساجد میں ووٹنگ کی اہمیت کو اجاگر کئے جانے کے نتیجے میں بہت سے نوجوان مسلمان مرد و خواتین نے ووٹنگ سینٹرز میں جا کر قبل از وقت ووٹ ڈالے۔ ان میں سے بہت سے نوجوان ایسے تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ ووٹ ڈالا۔ ایک صومالی نژاد امریکی نوجوان خالد محمد حسن نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ وہ پہلی مرتبہ ووٹ ڈال رہا ہے۔

اُس نے بتایا کہ وہ مسلمان اُمیدوار کے حق میں ووٹ ڈالے گا اور اُس کے نزدیک سب سے اہم مسئلہ ’ہیلتھ انشورنس‘ ہے۔

مینے سوٹا میں مسلمان اُمیدواروں میں سے ایک محمد نور ہیں جو ریاست کی اسمبلی کیلئے اتخاب لڑ رہے ہیں۔ اُنہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مقامی مسجد کے باہر کھڑے ہو کر وہاں آنے والے نمازیوں کو اپنے حق میں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ محمد نور نے کہا کہ انتخاب میں حصہ لینے کا مقصد یہ تھا کہ اپنی مسلمان برادری کی خدمت کر سکیں اور موجودہ حکومت کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف لڑ سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG