رسائی کے لنکس

بحیرۂ روم میں پھنسے 700 سے زائد مہاجرین کو بچا لیا گیا


ایک غیر سرکاری تنظیم کے ریسکیو ورکرز مہاجرین کو بحیرہ روم میں بچانے کی کارروائی کے دوران، (تصویر - رائٹرز)
ایک غیر سرکاری تنظیم کے ریسکیو ورکرز مہاجرین کو بحیرہ روم میں بچانے کی کارروائی کے دوران، (تصویر - رائٹرز)

لیبیا اور مالٹا کے ساحلوں کے قریب عارضی کشتیوں میں بحیرۂ روم پار کرنے کی کوشش کرنے والے 700 لوگوں کو بحری جہازوں کی مدد سے بچالیا گیا ہے۔

مہاجرین کی امداد کرنے والی تنظیم ایس او ایس میڈیٹیرینئن نے کہا ہے کہ اس کے جہاز 'دی اوشن وائکنگ' نے ہفتے سے بین الاقوامی پانیوں میں چھ ریسکیو مشن کیے جن میں سیکڑوں افراد کو بچا لیا گیا۔

اپنے آخری مشن میں تنظیم کے مطابق ریسکیو بحری جہاز کے ذریعے مالٹا کے ساحل کے قریب سے 106 افراد کو بچایا گیا۔ گروپ کو جرمنی کے ایک امدادی گروپ 'سی واچ' نے کشتی میں سوار لوگوں کی مشکل صورت حال سے متعلق مطلع کیا تھا۔

ایس او ایس نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ بچائے گئے افراد میں تین ماہ کا کمسن بچہ بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں اقوامِ متحدہ نے علاقے کے مختلف ملکوں سے اپیل کی تھی کہ مسافروں کے تحفظ کی ذمہ داری میں حصہ لیں اور سمندر پار کرنے والے مہاجرین کی حفاظت صرف بحیرہ روم کے ممالک پر ہی نہ چھوڑی جائے۔

ہفتے اور اتوار کی شب اوشن وائکنگ نے جرمن بحری جہازوں سی واچ اور ریسکیو شپ کے ساتھ مل کر مشکل میں گھرے چارسو افراد کو وسطی بحیرہ عرب میں بچایا۔

ایک ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان لوگوں کو ایک پر خطر آپریشن کے بعد ایک سمندری جہاز سے بچایا گیا۔

اوشن وائکنگ بحری جہاز میں اس وقت 555 مسافر ہیں جن میں دو حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔ ابھی تنظیم نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ان مسافروں کو کس بندرگاہ پر اتارا جائے گا۔

خیال رہے کہ ہزاروں افراد بحیرہ روم پار کرنے کے خطرناک سفر کا آغاز لیبیا سے کرتے ہیں۔ زیادہ تر مہاجرین تین سو کلومیٹرز کا دشوار ترین سمندری سفر طے کرنے کے بعد اٹلی کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG