رسائی کے لنکس

امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کے سیاسی سفر پر ایک نظر


مائیک پینس اپنی سیاسی زندگی کے آغاز سے ہی خود کو مسیحی، قدامت پسند ری پبلکن کہتے رہے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ایک بار پھر مائیک پینس کو اپنے ساتھ بطور نائب صدر نامزد کیا ہے۔

مائیک پینس اپنی سیاسی زندگی کے آغاز سے ہی خود کو مسیحی، قدامت پسند ری پبلکن کہتے رہے ہیں۔

لیکن صدر ٹرمپ کے نائب کے طور پر وائٹ ہاؤس میں ان کے ساڑھے تین سالہ دور کے دوران اُنہیں صدر ٹرمپ کا وفادار سمجھا جاتا ہے اور اب یہ دونوں ایک بار پھر قصرِ سفید میں چار سال گزارنے کے لیے یکجا ہیں۔

تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے مد مقابل ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن ہیں جب کہ مائیک پینس کے مقابلے میں کملا ہیرس نائب صدر کی امیدوار ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 کی انتخابی مہم میں جب پینس کو نائب صدارتی امیدوار کے لیے چنا تو وہ ریاست انڈیانا سے باہر زیادہ جانی پہچانی شخصیت نہیں تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مائیک پینس کا انتخاب ٹرمپ کے لیے قدامت پسند ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کا باعث بنا کیوں کہ اُنہیں ہیلری کلنٹن کے ساتھ سخت مقابلہ درپیش تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پینس کے بطور ریاستی گورنر اور رُکن کانگریس تجربے کا فائدہ لامحالہ صدر ٹرمپ کو ہوا اور وہ اُن کے بہترین حلیف ثابت ہوئے۔

صدر ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو اپ سیٹ شکست دی جس میں مائیک پینس کا بھی اہم کردار تھا۔

مائیک پینس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ری پبلکن پارٹی کی حمایتی قدامت پسند مسیحی برادری سے متعارف کرایا جب کہ کئی مواقع پر وہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اُن کی تعریف بھی کرتے رہے۔

گزشتہ صدارتی مہم کے دوران صدر ٹرمپ کے خواتین سے متعلق ریمارکس پر مبنی ویڈیو سامنے آنے پر مائیک پینس نے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے خیالات سے متفق نہیں اور نہ ہی ان کا دفاع کر سکتے ہیں۔ لیکن بطور صدر ٹرمپ کے نائب وہ اُن کے پبلک پالیسی معاملات پر کھل کر اُن کا دفاع کرتے رہے۔

مائیک پینس نے 2017 میں کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران تین منٹ میں لگ بھگ 12 مرتبہ صدر ٹرمپ کی تعریف کی جو میز کے دوسری طرف براجمان تھے۔

پینس نے کہا کہ "جناب صدر آپ نے امریکیوں کو وہ اُمید دی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اور بطور نائب صدر آپ کے ساتھ کام کرنے پر مجھے فخر ہے۔"

ابتدائی زندگی اور نائب صدر بننے سے قبل کا سیاسی سفر

مائیک پینس ریاست انڈیانا میں پیدا ہوئے اور تعلیم کا سلسلہ قانون کے شعبے میں ڈگری حاصل کر کے مکمل کیا۔ سیاست میں آنے سے قبل انہوں نے کچھ عرصے کے لیے وکالت کا پیشہ اپنایا۔

اکسٹھ سالہ پینس 1988 اور 1990 میں ایوانِ نمائندگان کی رُکنیت کے انتخاب میں ناکام رہے۔ تاہم اُنہوں نے 1994 سے 1999 تک بطور ریڈیو میزبان ریاست میں اپنی قدامت پسند سوچ کے ساتھ خود کو عوام کے ساتھ جوڑے رکھا۔

وہ سن 2000 میں پہلی بار ایوانِ نمائندگان کے رُکن منتخب ہوئے اور چھ بار یہ انتخاب جیتنے میں کامیاب رہے۔ اس دوران انہوں نے ری پبلکن پارٹی میں ترقی کے کئی زینے طے کیے۔ وہ ایوان کی قدامت پسند سوچ کے قانون ساز اراکین پر مشتمل ری پبلکن اسٹڈی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔

بطور رُکن کانگریس اپنے 12 سالہ دور میں اُنہوں نے ایوان میں 90 بل اور تحاریک متعارف کرائیں لیکن ان میں سے کوئی بھی قانون نہ بن سکا۔

ریاست انڈیانا کے گورنر

مائیک پینس 2012 میں ریاست انڈیانا کے گورنر منتخب ہوئے اور اس طرح انہوں نے روایتی طرزِ سیاست میں اپنے قد کاٹھ میں مزید اضافہ کیا۔

گورنر کی حیثیت سے انہوں نے اسقاطِ حمل کو روکنے اور ٹیکسوں میں چھوٹ جیسے معاملات پر اقدامات کی منظوری دی۔ معاشی میدان میں انہوں نے مقامی حکومتوں کی ان کوششوں کو روکا جن کے تحت کاروباری کمپنیوں کو کہا جارہا تھا کہ وہ ملازمین کو قانونی طور پر نافذ العمل شرح سے زیادہ اجرت یا تنخواہ دیں۔

بطور گورنر پینس کے ایک اقدام نے اس وقت قومی توجہ حاصل کی جب انہوں نے مذہبی آزادی سے متعلق قانون کی منظوری دی جسے معتدل ری پبلکن حلقوں نے ایک ہی جنس کے افراد کی آپس میں شادی کو ملنے والے قانونی تحفظ کے منافی سمجھا۔

امریکی انتخابات میں اس بار کیا داؤ پر لگا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:08 0:00

اس قانون میں کہا گیا تھا کہ کوئی بھی دکان دار یا کمپنی مذہبی آزادی کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کاروبار سے انکار کر سکتی ہے اور عدالت میں بھی یہ مؤقف اپنا سکتا ہے کہ اس سے اس کے عقائد کو زک پہنچتی ہے۔

معتدل ری پبلکن نے اس قانون پر احتجاج کیا جب کہ کئی کمپنیوں نے ریاست میں کاروبار اور سرمایہ کاری نہ کرنے کی بھی دھمکی دی جس کے بعد پینس نے اس میں ترمیم کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی غلط تشریح کی گئی۔

پینس دوبارہ گورنر منتخب ہونے کے ایک سخت مقابلے سے نبرد آزما تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اُنہیں 2016 کے صدارتی انتخابات کے لیے اپنے ساتھ بطور نائب صدر کا اُمیدوار چن لیا۔

کرونا کے دوران مائیک پینس کا کردار

جب کرونا بحران نے امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لیا تو صدر ٹرمپ نے مائیک پینس کو بطور نائب صدر عالمی وبا کی روک تھام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا نگران مقرر کیا۔

پینس کے لیے یہ وائٹ ہاؤس کا اب تک کا سونپا جانے والا سب سے بڑا کردار سمجھا جاتا ہے۔ ان کے فرائض میں نہ صرف کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش شامل ہے بلکہ نائب صدر کو اس مہلک مرض کی ٹیسٹنگ، علاج اور ویکسین کی تیاری کی نگرانی جیسی اہم ذمہ داریاں بھی نبھانا ہیں۔

اس سلسلے میں پینس نے کرونا وائرس ٹاسک فورس کی کئی ملاقاتوں کی صدارت کی اور وہ قومی میڈیا پر اس وبا پر قابو پانے کے بارے میں روزانہ امریکی عوام کو تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ کرتے رہے۔

لیکن صدر ٹرمپ نے انتخابات کے سال کے چیلنجز کے پیشِ نظر کچھ عرصے بعد خود ہی روزانہ پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابتداً صدر ٹرمپ کرونا وبا کو امریکہ کے لیے کم خطرہ سمجھتے ہوئے اس پر قابو پانے کے دعوے کرتے رہے۔

کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے دوران مائیک پینس بھی صدر ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کرتے رہے۔ اپنی روزانہ کی بریفنگ کے دوران اُن کا یہ مؤقف رہا کہ امریکہ میں اس لیے زیادہ کیسز آ رہے ہیں کیوں کہ یہاں زیادہ ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔

جون کے وسط میں امریکی اخبار 'دی وال اسٹریٹ جرنل' میں اپنے ایک مضمون میں پینس نے لکھا کہ وائرس کے متعلق خوف کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔

اُنہوں نے لکھا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکی نظامِ صحت گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں بہتر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک نظر نہ آنے والے دشمن کے خلاف جنگ جیت رہا ہے۔

لیکن نائب صدر کی روشن خیالی کے باوجود امریکہ میں کرونا وئرس کی وبا میں اب تک کمی نہیں آئی اور دو لاکھ سے زائد امریکی اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔ اور کیس بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ امریکہ میں اب تک دنیا بھر میں کووڈ نائنٹین کے سب سے زیادہ کیس سامنے آئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG