رسائی کے لنکس

logo-print

کابل میں تین غیر ملکی شہری اغوا کے بعد قتل


تینوں ملازمین کو کابل کے نواحی علاقے پلِ چرخی سے اغوا کیا گیا تھا۔

تینوں افراد دنیا کی دوسری بڑی فوڈ اور کیٹرنگ کمپنی 'سوڈیکسو' سے منسلک تھے اور افغانستان میں تعینات تھے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں جنگجووں نے ایک بین الاقوامی فوڈ کمپنی کے تین غیر ملکی ملازمین کو اغوا کے بعد قتل کردیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق تینوں افراد دنیا کی دوسری بڑی فوڈ اور کیٹرنگ کمپنی 'سوڈیکسو' سے منسلک تھے اور افغانستان میں تعینات تھے۔

کابل پولیس کے ترجمان حشمت استانکزئی نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق بھارت، ملائیشیا اور میسیڈونیا سے تھا اور تینوں 'سوڈیکسو' میں باورچی تھے۔

حکام کے مطابق ملائشین شہری کی عمر 64، بھارتی کی 39 جب کہ میسیڈونین کی 37 برس تھی۔ تینوں ملازمین کو کابل کے نواحی علاقے پلِ چرخی سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ ایک مقامی ڈرائیور کے ساتھ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔

تاہم پولیس کے مطابق ان افراد کی لاشیں کابل صوبے کی جنوبی ضلعے موسھی کے ایک مقام پر کھڑی گاڑی سے ملی ہیں جن کے ساتھ ان کے شناختی کارڈز بھی ملے ہیں۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے کہا ہے کہ تینوں افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ مقتولین کی کمپنی کی انتظامیہ سے مزید تفصیل جاننے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن تاحال 'سوڈیکسو' کی جانب سے واقعے پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

افغانستان کے مختلف علاقوں میں نجی دفاتر، فوجی تنصیبات، اسکولوں، اسپتالوں اور جیلوں کی کینٹینوں کا انتظام 'سوڈیکسو' کے پاس ہے اور کمپنی کے صارفین میں امریکی میرین کور بھی شامل ہے۔

افغانستان میں سرگرم کسی شدت پسند تنظیم نے تاحال واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ افغانستان میں مقامی اور غیر ملکی باشندوں کو تاوان کے لیے اغوا کرنے کی وارداتیں معمول ہیں جن سے حاصل ہونے والی آمدنی کو جنگجو اپنی تخریبی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG