رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے لیے فوجی تربیتی پروگرام کی بحالی، صدر ٹرمپ کی توثیق


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے لیے فوجی تربیت کا پروگرام ایک بار پھر بحال کرنے کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔ امریکہ کی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے امریکی صدر کی منظوری کی تصدیق کی ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے یہ تصدیق ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب عراق میں امریکہ کی فضائی کارروائی میں ایران کے اہم ترین فوجی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت ہوئی۔ اور اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس صورت حال پر پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر بات کی۔

امریکہ نے انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام (آئی ایم ای ٹی) 2018 اس وقت بند کر دیا تھا جب پاکستان نے روس کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جس کے تحت پاکستانی فوجی افسران روس میں فوجی اداروں میں تربیت حاصل کر سکتے ہیں۔

امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے لیے انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اس پروگرام کی بحالی کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی افواج میں مشترکہ ترجیحات کے حوالے سے تعاون میں بہتری کے لیے یہ پروگرام بحال کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس اقدام کو امریکہ کی سیکیورٹی میں بہتری کے لیے بھی اہم قرار دیا۔

ایلس ویلز نے یہ بھی کہا کہ امریکی کی پاکستان کے لیے مجموعی فوجی امداد (سیکیورٹی اسسٹنس) بدستور معطل رہے گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے 2018 کے آغاز پر ٹوئٹ میں پاکستان سے متعلق سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے ملک نے پاکستان کو گزشتہ 15 برس میں 33 ارب ڈالرز بطور امداد فراہم کیے۔ جس کے بدلے میں پاکستان سے امریکہ کو صرف دھوکہ اور جھوٹ ہی ملا۔

جب کہ اس کے بعد امریکہ نے پاکستان کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی کی مد میں امداد بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

جولائی 2019 میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا۔ اس دورے کے بعد واشنگٹن نے اسلام آباد کے لیے ٹیکنیکل سپورٹ کی مد میں امداد دینے کی منظوری دی۔

واضح رہے کہ جس پروگرام کی بحالی کا اعلان کیا گیا ہے اس کے تحت امریکہ کے آرمی وار کالج اور نیول وار کالج میں پاکستانی افسران تربیت حاصل کرتے تھے۔

واشنگٹن کا یہ اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔

اس رابطے کو امریکی محکمہ خارجہ نے عراق میں فضائی کارروائی میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی بعد کی صورت حال سے متعلق قرار دیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ میں نے اور پاکستان کے چیف آف اسٹاف جنرل باجوہ نے جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے کی امریکہ کی دفاعی کارروائی سے متعلق بات کی۔

اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے کہا کہ مائیک پومپیو نے ایرانی حکومت کی جانب سے خطے میں عدم استحکام کی کارروائیوں کی نشاندہی کی جب کہ واشنگٹن انتظامیہ امریکی مفادات، اہل کاروں، تنصیبات اور اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی ٹوئٹس میں بتایا گیا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کی امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ٹیلی فون کال پر علاقائی صورت حال پر بات چیت ہوئی جس میں مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے ممکنہ اثرات کا معاملہ شامل ہے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے مائیک پومپیو سے گفتگو میں امریکہ سے تحمل سے کام لینے اور تعمیری رابطے برقرار رکھنے پر زور دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG