رسائی کے لنکس

logo-print

تحریک طالبان اب بھی پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہے: رپورٹ


فائل فوٹو

ایک جائزے کے مطابق، پاکستان میں 2018 کے مقابلے میں 2019 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 13 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کمزور ہونے کے باوجود پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ دولت اسلامیہ (داعش) نے بھی اپنا وجود برقرار رکھا ہے۔

اسلام آباد پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیرستان میں فوجی آپریشن کے باوجود تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیاں جاری رہیں۔

سال 2019 میں ملک میں ہونے والے حملوں میں سے 36 فی صد کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔ ان کے بعد دیگر علیحدگی پسند تنظیمیں پرتشدد واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی رہیں۔

گزشتہ سال ملک بھر میں دہشت گردی کے 230 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 318 افراد ہلاک جبکہ 720 زخمی ہوئے۔ 2018 کے مقابلے میں سال بھر میں ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 13 فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2018 میں دہشت گردی کے 262 واقعات رونما ہوئے تھے جن کے مقابلے میں سال 2019 میں حملوں کی تعداد میں 13 فی صد کمی ہوئی ہے۔ دہشت گرد حملوں میں کمی کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد میں 46 فی صد کمی ہوئی۔

گزشتہ سال دہشت گردی کے مختلف واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 160 جبکہ 158 عام شہری ہلاک ہوئے۔ لیکن، ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں پانچویں درجے پر رہا۔

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان اور کمانڈر عدنان رشید (فائل فوٹو)
تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان اور کمانڈر عدنان رشید (فائل فوٹو)

خود کش حملوں کی تعداد میں کمی

گزشتہ سال پاکستان میں خود کش حملوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی ہوئی۔

جنوری 2019 میں میں لورالائی، اپریل میں کوئٹہ، مئی میں لاہور اور جولائی میں ڈیرہ اسماعیل خان میں خود کش حملے ہوئے۔

ان خود کش حملوں میں سے دو کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی۔ حزب الاحرار، داعش اور کالعدم لشکر جھنگوی کے اتحاد نے ایک ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ خیال رہے کہ سال 2018 میں 11 خود کش حملے ہوئے تھے۔

گزشتہ سال دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں 124 جبکہ بلوچستان میں دہشت گردی کے 84 واقعات رپورٹ ہوئے۔ سندھ میں 15 اور پنجاب میں چھ حملے ہوئے۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حملوں کی تعداد گزشتہ سال جیسی ہی رہی۔ تاہم، سندھ میں اضافہ دیکھا گیا۔

اسلام آباد امن و امان کے حوالے سے محفوظ ترین شہر رہا جہاں سال بھر میں دہشت گردی کا صرف ایک واقعہ رونما ہوا۔

2019 میں ہونے والے دہشت گردی کے کل 230 واقعات میں سے 130 تحریک طالبان پاکستان، حزب الاحرار، جماعت الاحرار، داعش اور دیگر مذہبی انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے کیے گئے۔ جو مجموعی واقعات کا 56 فی صد ہے۔

اسلام آباد پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سجاد بخاری کہتے ہیں کہ اگرچہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ مذہبی انتہا پسند گروہ بدستور خطرہ بنے رہے۔ ان کے بقول، خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات میں تحریک طالبان ملوث رہی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سجاد بخاری نے کہا کہ تحریک طالبان اب شمالی وزیرستان سے نکل کر جنوبی وزیرستان اور بلوچستان کے ضلعوں ژوب اور لورالائی میں قدم جما چکی ہے۔

سجاد بخاری کہتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ نئی شکل اختیار کر رہا ہے اور مذہبی انتہا پسند اور بلوچ قوم پرست مسلح گروپ 2020 میں ملکی امن کے لیے بڑا خطرہ ہوں گے۔

لیفٹینٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں داخلی استحکام میں خاصی بہتری آئی ہے۔ امن و امان کے حالات معمول کے قریب آ چکے ہیں۔ تاہم، اس کے باوجود اندرونی طور پر انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان، داعش اور اس جیسے گروہوں کی پناہ گاہیں سرحد پار اففانستان میں ہیں جنہیں بھارت کی حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جوں جوں معاملات جنگ بندی کی طرف بڑھ رہے ہیں ان تنظیموں کا وجود بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔

نعیم خالد لودھی کہتے ہیں کہ اگرچہ پاکستان میں داخلی طور پر حالات معمول کے قریب ہیں تاہم اس کے باوجود کشمیر اور خطے کی صورتِ حال کے پیش نظر انہیں 2020 پر امن دیکھائی نہیں دیتا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے والے اداروں کو انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2019 میں بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں وہ کمزور ہوئے ہیں جس کے بعد بلوچ قوم پرست گروپوں نے اپنا عسکری اتحاد بنا لیا ہے۔

اس نئے مسلح اتحاد نے فروری میں فرنٹیر کور (ایف سی) اور اپریل میں نیوی کے اہلکاروں پر حملہ کیا۔ قوم پرست مسلح اتحاد کا ہدف بلوچستان میں سیکورٹی اہلکار اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک کے جاری منصوبے ہیں۔

پاکستان کی حکومت کا بھی یہ دعویٰ رہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کم ہوئی ہے اور دہشت گردوں کے بڑے گروہوں کا قلع قمع کر دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG