رسائی کے لنکس

logo-print

واشنگٹن: نیشنل مال پر ’ملین مارچ‘ کی یاد میں بڑا اجتماع


ملین مارچ کی یاد میں منعقدہ اس اجتماع کا موضوع ’انصاف یا کچھ اور‘ تھا، جس میں شریک لاکھوں لوگوں نے ملک میں انصاف کے حوالے سے اپنے قائدین کی تقریریں سنیں اور انصاف اور مساوات کے نعروں پر مبنی گانوں سے لطف اندوز ہوئے

امریکی سیاہ فام رہنما، لوئی فرا خان کی قیادت میں 20 برس قبل تاریخی ’ملین مین مارچ‘ کی یاد میں ایک بار پھر لاکھوں لوگ ہفتے کو واشنگٹن کے نیشنل مال پہ جمع ہوئے؛ اور انھوں نے ملک میں انصاف کی فراہمی پر زور دیا۔

اِس ملین مارچ کا اہتمام بھی ’نیشن آف اسلام‘ نامی تنظیم نے کیا تھا۔ تاہم، اس میں سیاہ فام مسلمانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں دیگر کمیونٹی کے افراد بھی شریک تھے۔

ملین مارچ کی یاد میں منعقد ہونے والے اس اجتماع کا موضوع ’انصاف یا کچھ اور‘ تھا، جس میں شریک لاکھوں لوگوں نے ملک میں انصاف کے حوالے سے اپنے قائدین کی تقریریں سنیں اور انصاف اور مساوات کے نعروں پر مبنی گانوں سے لطف اندوز ہوئے۔

اس موقع پر، لوئی فراخان نے ایک بیان جاری کیا جو حاضرین میں تقسیم کیا گیا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ امریکی حکومت کو ایسا پیغام بھیجنے کے خواہاں ہیں جس پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی، اور وہ پیغام یہ ہے کہ حکومت ان کی جائز شکایات کا ازالہ کرے۔

اس موقع پر خطاب میں ’نیشن آف اسلام‘ کے منسٹر، لوئی فرا خان نے سیاہ فام اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ’امتیازی برتاؤ‘ کا الزام لگایا۔

انھوں نےیاد دلایا کہ واشنگٹن کا یہی وہ مقام ہے جہاں سیاہ فام غلاموں کا کاروبار کیا جاتا تھا۔ لیکن، انھوں نے خبردار کیا کہ سیاہ فام نوجوان اب اس تاریخ کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انھوں نے ملک میں اسلحے پر کنٹرول کےلئے قانون سازی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

لوئی فرا خان کا کہنا تھا کہ ’امریکی معاشرے میں ایک بار پھر انصاف کی خاص ضرورت ہے، جس کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کرے گا‘۔

اجتماع سے میکسیکن امریکی کمیونٹی کے قائدین اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

ملین مین مارچ کی یاد میں امریکی ایوانوں کے اطراف میں منعقدہ اس اجتماع میں حدنگاہ لوگ ہی لوگ تھے۔ کیپٹل ہل کی سڑھیوں پر اسٹیج سجائے گئے تھے۔ لیکن، نیشنل مال کے دوسرے کنارے تک لوگوں کا ایک بڑا اجتماع تھا، جن کے لئے جگہ جگہ بڑے اسکرین لگائے گئے تھے۔ حاضرین اپنے ہمراہ لائے گئے فولڈنگ چیئر پر بیٹھ کر بڑے اطمینان سے اپنے رہنماؤں کی تقاریر سنیں۔

اس موقع پر ایک میلے کا سماں بھی تھا۔ اطراف کی سڑکوں پر جگہ جگہ اسٹال لگے تھے، جن پر سیونیئر، مارچ کے نعروں پر مشتمل ٹی شرٹ، مختلف سائن، بٹن اور سیاہ فام رہنماؤں پر مشتمل پوسٹر فروخت ہو رہے تھے۔

اجتماع میں سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے تھے، لوگ واک تھرو گیٹ سے گزر کر جلسہ گاہ میں پہنچ رہے تھے، جبکہ ’نیشن آف اسلام‘ کے سینکڑوں رضاکاروں نے الگ حفاظتی حصار قائم کیا ہوا تھا، جس کی وجہ سے اجتماع کا نظم و نسق مثالی تھا۔

اجتماع میں شریک بعض نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے، جن پر لکھا تھا ’سیاہ فام زندگی بھی اہم ہے‘؛ اور ’ہاتھ اٹھا دئے، گولی مت مارو‘۔یہ نعرے وفقے وفقے سے اسٹیج سے بھی بلند ہوتے رہے۔

پہلے ملین مارچ میں، جو کہ 16 اکتوبر 1995ءکو اسی مقام پر منعقد ہوا تھا، موجودہ صدر اوباما نے بھی شرکت کی تھی۔

پہلے ملین مارچ میں، سیاہ فاموں کے علاوہ کسی کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن، آج کے اجتماع میں میکسیکن اور دیگر کمیونٹیز کو بھی مدعو کیا گیا تھا، جن کی نمایاں تعداد موجود تھی۔

اس اجتماع میں ایک بار پھر عہد کیا گیا کہ سیاہ فام اقلیتیں اپنی زندگی اور خاندان کو بہتر بنانے کی جستجو کریں گی۔ واضح رہے کہ پہلے تاریخی ملین مارچ کے بعد سیاہ فام کمیونٹی میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔

XS
SM
MD
LG