رسائی کے لنکس

logo-print

صومالیہ میں 16 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار


'ورلڈ فوڈ پروگرام' نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال صومالیہ میں غذائی قلت کا شکار 16 لاکھ افراد تک خوراک پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

'ورلڈ فوڈ پروگرام' نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال صومالیہ میں غذائی قلت کا شکار 16 لاکھ افراد تک خوراک پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق ان میں سے لگ بھگ 10 لاکھ افراد خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں اور ان میں سے بیشتر ان علاقوں کے رہائشی ہیں جہاں ماضی قریب تک شدت پسند تنظیم 'الشباب' کا قبضہ تھا۔

تاہم 'ڈبلیو ایف پی' کے مطابق صومالیہ کی صورتِ حال میں اگست 2011ء کے مقابلے میں بہتری آئی ہے جب یہ افریقی ملک 'الشباب' اور افریقی افواج کے درمیان مسلح تصادم اور قحط سالی کا سامنا کر رہا تھا۔

عالمی ادارے کے مطابق صومالیہ میں خوراک کی کمی کا شکار افراد کی تعداد دو سال قبل کے مقابلے نصف رہ گئی ہے لیکن ملک میں خصوصاً جنوبی علاقوں میں صورتِ حال اب بھی تشویش ناک ہے۔

اپنی رپورٹ میں'ڈبلیو ایف پی' نے جنوبی صومالیہ کے ساحلی شہر 'کسمایو' میں اپنی سرگرمیوں کی دوبارہ بحالی پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔

عالمی ادارہ چار برس کے تعطل کے بعد اس ساحلی شہر میں دوبارہ اپنی سرگرمیاں شروع کرنے میں کامیاب ہوا ہے جو ماضی میں 'الشباب' کا ایک مضبوط گڑھ تھا۔

'القاعدہ' سے منسلک تنظیم 'الشباب' کے جنگجووں نے لگ بھگ تین برس تک جنوبی صومالیہ کے وسیع علاقے میں رہنے والوں کو عملاً یرغمال بنائے رکھا تھا اور اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔

'ورلڈ فوڈ پروگرام' کی ترجمان الزبتھ بائرز کے مطابق کسمایو میں غذائی قلت انتہائی سنگین ہے اور شہر کے نصف باسی اور پانچ سال سے کم عمر کے 24 فی صد بچے خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں۔

عالمی ادارے نے آئندہ چھ ماہ کے دوران میں صومالیہ میں اپنے منصوبوں کے لیے عالمی برادری سے 57 ملین ڈالرز کے عطیات کی اپیل کی ہے۔
XS
SM
MD
LG