رسائی کے لنکس

logo-print

'نفرت انگیز یا فحش مواد اور ریاست مخالف بیانات پر سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا'


وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق کے مطابق حکومت سماجی رابطوں کے نیٹ ورکس کے حوالے سے بنائے گئے قواعد پر بین الاقوامی کمپنیوں کے تحفظات دور کرنے کو تیار ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) امین الحق نے کہا ہے کہ حکومت سوشل میڈیا پر کسی بھی ایسی پابندی کے خلاف ہے جس سے ترقی کا عمل رکتا ہو۔

وفاق میں بر سر اقتدار پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) سے تعلق رکھنے والے امین الحق کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سماجی رابطوں کے نیٹ ورکس کے حوالے سے بنائے گئے قواعد پر بین الاقوامی کمپنیوں کے تحفظات دور کرنے کو تیار ہے۔

اسلام آباد میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر نے بین الاقوامی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کی حکومت کو سوشل میڈیا کے حالیہ نافذ کیے گئے قواعد پر اپنے اعتراضات سے آگاہ کریں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے گزشتہ ماہ الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون سے منسلک ضوابط کے اجرا کا نوٹی فیکشن جاری کیا تھا۔ اس نوٹیفیکیشن کے مطابق مذہب، پاکستان کے وقار، سلامتی، دفاع، ثقافتی اور اخلاقی اقدار کے خلاف مواد بلاک کرنے کے لیے متعلقہ کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا۔

ان قواعد پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ سوشل میڈیا کمپنی یا ویب سائٹ کو مکمل طور پر پاکستان میں بلاک کر دیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ فیس بک ہو، ٹوئٹر، پب جی یا ٹک ٹاک، وہ تمام نیٹ ورکس کو بات چیت میں شامل کریں گے اور بات چیت سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کے دفاتر بھی پاکستان میں ہوں۔

امین الحق کہتے ہیں کہ یہ بین الاقوامی کمپنیاں اربوں ڈالرز کی آمدن پاکستان سے حاصل کرتی ہیں اور اگر ان کمپنیوں کو پاکستان میں دفاتر بنانے کی شرط رکھی گئی ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کرنے سے بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں اور پی ٹی اے کو آپس میں رابطہ کاری اور ہم آہنگی میں آسانی ہوگی۔

پاکستان میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے سوشل میڈیا سے متعلق نئے قواعد پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پاکستان میں نئے قواعد کی موجودگی میں کام جاری رکھنا مشکل ہے۔

امین الحق نے کہا کہ سوشل میڈیا قواعد کے ذریعے اظہار رائے پر قدغن نہیں لگانا چاہتے۔ سیاسی آزادی برقرار رہے گی۔ البتہ ان تمام امور کو پاکستان کی روایات کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا قواعد پر بین الاقوامی کمپنیوں کے اعتراضات سنیں گے۔ مگر نفرت انگیز مواد، ریاست مخالف بیانات اور فحش مواد کو روکنے پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مخالف، فحش اور مذہبی منافرت پر مبنی مواد پر مقتدر حلقوں اور عدالتوں کو بھی اعتراض تھا۔

امین الحق کے بقول وہ ایسا انٹرنیٹ چاہتے ہیں کہ نفرت انگیزی ختم ہو، ملکی سلامتی کا دفاع ہو اور فحاشی کا خاتمہ ہو۔

'طلبہ کو انٹرنیٹ مہیا رکھیں گے'

امین الحق کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کے ‘ڈیجیٹل پاکستان’ کے وژن کے مطابق وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی ملک کے دور دراز علاقوں میں ٹیلی فون اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 22 کروڑ آبادی میں سے ساڑھے 16 کروڑ افراد کے پاس موبائل فون موجود ہے۔ جب کہ 44 فی صد علاقوں میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ عوام کی دسترس میں ہے۔

وفاقی وزیر نے اعتراف کیا کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں رابطہ کاری کے لیے مختص یونیورسل سپورٹ فنڈ کے باوجود بلوچستان، کشمیر، گلگت بلتستان اور سابق قبائلی اضلاع کے بہت سے علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت مہیا نہیں کی جا سکی۔

انہوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لیے گزشتہ چند ماہ میں 16 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ جس کے ذریعے مزید 50 لاکھ آبادی براڈ بینڈ سروس سے منسلک ہو جائے گی۔

فیس بک: پالیسی سخت مگر مالی مفاد بھی پیش نظر
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:34 0:00

وفاقی وزیر نے تسلیم کیا کہ کرونا وائرس میں تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث انٹرنیٹ کے ذریعے تدریسی عمل میں بلوچستان، کشمیر، گلگت بلتستان اور سابق قبائلی اضلاع میں طلبہ کو مسائل کا سامنا رہا۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت آئی ٹی نے ٹیلی مواصلات کی کمپنیوں کے ذریعے ایسے اقدامات کیے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں کرونا وائرس کی متوقع دوسری لہر میں طلبہ کو ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ڈیجیٹل پارلیمنٹ کا قیام

وفاقی وزیر نے بتایا کہ کرونا وائرس کے باوجود پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں 44 فی صد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ جو کہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 264 ملین ڈالرز سے بڑھ کر رواں سال 379 ارب ڈالرز رہا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کی وزارت نے کرونا وائرس کے بحران کو ایک موقع کے طور پر لیا ہے۔ ملک میں ٹیلی مواصلات اور انٹرنیٹ کی فراہمی کو وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ اس صنعت اور برآمدات کو بھی فروغ دیا ہے۔ وزارتِ آئی ٹی ای-گورننس کے حوالے سے ایک سال سے کام کر رہی ہے اور جلد ہی تمام 40 وفاقی وزارتیں اپنی تمام دفتری دستاویزات کمپیوٹر پر منتقل کر چکی ہوں گی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارتِ آئی ٹی ڈیجیٹل پارلیمنٹ پر بھی کام کر رہی ہے اور جون 2021 تک پاکستان کے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی کارروائی کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پارلیمنٹ کے تحت اراکین اسمبلی کی نشستوں پر کمپیوٹر نصب کیے جائیں گے جس کے ذریعے وہ پارلیمانی امور میں شریک ہوں گے۔

پاکستان میں فائیو جی کب تک آئے گا؟

ان کا کہنا ہے کہ ‘فائیو جی’ پاکستان کا مستقبل ہے جو کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے انقلاب ہو گا۔

ہواوے پر پابندی: برطانیہ اور چین میں کشیدگی
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:31 0:00

انہوں نے کہا کہ وزارت آئی ٹی فائیو جی کی نیلامی کی تیاری کر رہی ہے جس کا دسمبر 2022 تک پاکستان میں آغاز کر دیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ملک بھر میں فائبر آپٹکس کو وسعت دی جا رہی ہے اور انفراسٹرکچر پر بھی کام ہو رہا ہے۔

'معاہدے پر عمل داری تک متحدہ پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے'

متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر امین الحق کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی کشمکش کی صورت حال میں ایم کیو ایم تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک حکومت کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے یہ شراکت نہیں ٹوٹے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت مخالف تحریک جاری ہے۔ جب کہ دوسری جانب قومی اسمبلی میں قلیل اکثریت رکھنے والی تحریک انصاف سے اتحادی ایم کیو ایم نے تحفظات کا اظہار کر رکھا ہے۔

امین الحق کا کہنا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد ان کی جماعت کا وفاقی حکومت میں شمولیت کا فیصلہ تاحال درست ثابت ہوا ہے۔

سن 2018 کے انتخابات کے بعد ایم کیو ایم تحریک انصاف کے ساتھ حکومت سازی میں شریک ہوئی۔ تاہم تجزیہ کار اسے غیر فطری اتحاد قرار دیتے ہیں۔ جب کہ حزب اختلاف نے بھی ایم کیو ایم کو حکومت سے علیحدہ ہونے کی تجویز دی ہے۔

قومی اسمبلی میں سات نشستیں رکھنے والی ایم کیو ایم کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی صورت میں تحریک انصاف کی حکومت کے لیے قومی اسمبلی میں اکثریت برقرار رکھنا مشکل عمل ہوگا۔

امین الحق نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے تحریک انصاف کے ساتھ حکومت سازی کے معاہدے میں وزارتوں یا گورنر شپ کا حصول نہیں چاہا۔ بلکہ کراچی و سندھ کے شہری علاقوں کی ترقی کی بات کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی ‘کراچی ترقیاتی پیکج’ پر گہری نظر ہے اور وفاقی حکومت کو متحدہ کی حمایت برقرار رکھنے کے لیے اس پر مثبت پیش رفت جاری رکھنی ہو گی۔

ان کے بقول ایم کیو ایم کا عزم ہے کہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل رہنا چاہیے۔ جس کے نتیجے میں جمہوری استحکام اور پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہو سکے گی۔

امین الحق کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے کراچی کے اپنے جلسے میں سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل کی بات نہ کرکے وہاں کے عوام کو مایوس کیا ہے۔

'سندھ حکومت نے تجاوزات ہٹانے میں سستی برتی'

امین الحق کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے کراچی کے لیے 113 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کی خاص بات یہ ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اس پر ہم آہنگ ہیں۔

ان کے بقول وفاقی اور صوبائی سطح پر تقسیم کار اور ذمہ داریوں کے تعین کے لیے کراچی ٹرانسفارمیشن کمیٹی (کے ٹی سی) تشکیل دی گئی ہے جو کہ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں پر مشتمل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کمیٹی نے متعدد اجلاس کرنے کے بعد وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان ترقیاتی کاموں کو تقسیم کر دیا ہے اور کراچی کے لیے پانی کے سب سے بڑے منصوبے کے فور کی ذمہ داری وفاق نے اپنے ذمہ لے لی ہے۔

امین الحق کا کہنا تھا کہ ایک عشرے سے التوا کے شکار اس منصوبے پر 70 ارب روپے لاگت آئے گی جسے آئندہ تین سال میں مکمل کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی گرین لائن منصوبے کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں بارہ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور جون تک سرجانی ٹاؤن سے نمائش چورنگی تک یہ بس سروس شروع ہو جائے گی۔

متحدہ رہنما کا کہنا تھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں آگ بجھانے کے لیے محض 14 فائر ٹینڈرز کام کررہے ہیں اور ایم کیو ایم کی درخواست پر وفاقی حکومت نے شہر کے لیے 50 فائر ٹینڈرز اور دو عدد واٹر باؤزرز منگوائے ہیں۔ جو آئندہ ہفتے کراچی میونسپل کارپوریشن کے حوالے کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے تجاوزات ہٹانے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی تھی جو کہ گزشتہ کئی ماہ سے سست روی کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے ٹی سی نے اپنے حالیہ اجلاس میں اس بات پر زور دیا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کی مہم چلائی جائے تاکہ بارش کے بعد جمع ہونے والی پانی کی نکاسی ہو سکے اور شہر کے نشیبی علاقے زیر آب نہ آئیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG