رسائی کے لنکس

logo-print

چیچہ وطنی: آٹھ سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، شہر میں ہڑتال


جناح اسپتال لاہور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سہیل ثقلین نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ نور فاطمہ جب اسپتال لائی گئی تو بری طرح جھلسی ہوئی تھی اور اسے فوری طور پر برن یونٹ میں داخل کرلیا گیا تھا۔

پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے وسطی ضلعے ساہیوال میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے بعد جلائی جانے والی آٹھ سالہ بچی لاہور میں دورانِ علاج دم توڑ گئی ہے۔

ساہیوال کی تحصیل چیچہ وطنی سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ نور فاطمہ کو اتوار کو گھر کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد اس کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی گئی تھی۔

بعد ازاں ملزمان معصوم بچی کو جلانے کے بعد اس کے گھر کے نزدیک پھینک کر فرار ہوگئے تھے۔

نور فاطمہ کے والد محمد عاشق نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ وہ چیچہ وطنی کے نواحی علاقے محمد آباد کے رہائشی ہیں اور ان کی بیٹی دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔

"اتوار کے روز دوپہر کو نور فاطمہ گھر سے ٹافیاں لینے گئی تو واپس نہیں آئی۔ ہم نے تلاش شروع کی تو تین گھنٹے بعد وہ جھلسی ہوئی بے ہوشی کی حالت میں ملی۔ اسے فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال لے گیا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ اسے جناح ہسپتال لاہور لے جاؤ۔"

جناح اسپتال لاہور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سہیل ثقلین نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ نور فاطمہ جب اسپتال لائی گئی تو بری طرح جھلسی ہوئی تھی اور اسے فوری طور پر برن یونٹ میں داخل کرلیا گیا تھا۔

ڈاکٹر سہیل کے مطابق نور فاطمہ کا 80 سے 90 فی صد جسم جل چکا تھا اور ایسے کیسز میں مریض کا زندہ بچنا مشکل ہوتا ہے۔

نور فاطمہ کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی ایک روز تک جناح اسپتال میں موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

محمد عاشق نے بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کی لاش لے کر چیچہ وطنی واپس آئے تو انہیں بچی سے زیادتی کا شبہ ہوا جس پر پوسٹ مارٹم کے لیے وہ بچی کی لاش کو دوبارہ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال لے گئے۔

ساہیوال پولیس کے ضلعی سربراہ ڈاکٹر عاطف اکرام نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بچی سے جنسی زیادتی کے شواہد ملے ہیں جس کے بعد مزید تحقیق کے لیے نمونے فرانزک لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لیبارٹری سے فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی معاملے کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جاسکے گا۔

ڈاکٹر عاطف اکرام نے بتایا کہ پولیس نے دفعہ 302 کے تحت نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور ایک مشتبہ شخص کو حراست میں بھی لیا گیا ہے جس سے تفتیش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اس معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہے اور واقعے میں ملوث افراد کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم 'عورت فاؤنڈیشن' لاہور کی سینئر پروگرام افسر سمیر سلیم نے اس واقعے پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے بڑے افراد کو زندہ جلایا جاتا تھا لیکن اب بچوں اور بچیوں کو بھی زندہ جلایا جارہا ہے۔

"ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ لوگوں کو، والدین کو اور اساتذہ کو بہت شعور کی ضرورت ہے۔ پتا نہیں لوگ ایسے واقعات پر کیوں خاموش ہیں؟ حکومت کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے تا کہ انہیں روکا جا سکے۔"

نور فاطمہ کے ساتھ پیش آنے والے افسوس ناک واقعے پر چیچہ وطنی بار کونسل اور شہر کی مرکزی انجمنِ تاجران نے منگل کو پورے شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

واقعے کے خلاف شہر میں مشتعل افراد نے کئی مقامات پر احتجاج بھی کیا ہے۔

قصور میں لگ بھگ دو ماہ قبل معصوم بچی زینب کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل کے واقعے کے بعد سے ملک بھر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سے متعلق عوامی آگہی میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں حکام پر ایسے واقعات سامنے آنے کے بعد فوری کارروائی کے لیے دباؤ بڑھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG