رسائی کے لنکس

logo-print

مصباح الحق پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر


پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان مصباح الحق کو کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ جبکہ وقار یونس کو بولنگ کوچ مقرر کر دیا ہے۔

وقار یونس ماضی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے دو مرتبہ ہیڈ کوچ رہ چکے ہیں جب کہ مصباح الحق کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد پہلی مرتبہ اس منصب پر فائز ہوئے ہیں۔

پی سی بی نے مصباح الحق کو ہیڈ کوچ کے ساتھ ساتھ چیف سلیکٹر کے عہدے پر بھی تعینات کیا ہے۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے مکی آرتھر نے بطور ہیڈ کوچ اور انضمام الحق نے چیف سلیکٹر کی حیثیت سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ کام کیا تھا۔

’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے ضیاء الرحمٰن کے مطابق اپنی تعیناتی کے بعد قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ قومی کرکٹ کی کوچنگ کرنا اُن کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور وہ پوری کوشش کریں گے کہ اس نئی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھائیں اور ایک اچھی ٹیم تیار کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سب نے دیکھا ہے کہ کرکٹ کیرئیر کے دوران میں نے تنقید برائے تنقید کو کس طرح ڈیل کیا۔ خامیوں کو دورکرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ سترہ سال کرکٹ کھیلی ہے، دستیاب وسائل پرہی حکمت عملی بنائی جاتی ہے۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ کارکردگی میں استحکام ہے۔ کبھی پاکستانی کرکٹ ٹیم بہت اچھا کھیلتی ہے تو کبھی برا۔ اُن کی کوشش ہو گی کہ کارکردگی کو مسلسل برقرار رکھا جاسکے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فیلڈنگ اور فٹنس کے معیارپرخصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی ٹیم میں پروفیشنلزم کس طرح لانا ہے، اس پر کام کرنا ہے۔ وقاریونس کے کام میں مداخلت نہیں کروں گا، ہماری شروع سے ہی سوچ تھی کہ سلیکٹراورکوچ ایک ہی ہونا چاہیے۔ فائنل الیون کا فیصلہ کپتان کو کرنا چاہیے، کپتان کو سلیکشن میں اہمیت دینی چاہیے۔

مصباح الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شریک چیف ایگزیکٹو پاکستان کرکٹ بورڈ وسیم خان نے کہا کہ کوچنگ کے لیے درخواست جمع کرانے والے تمام امیدواروں کے شکر گزار ہیں۔ امید ہے ملکی کرکٹ کو مصباح الحق کی قائدانہ صلاحیتوں سے فائدہ ہو گا۔

مصباح الحق جب کرکٹ میں آئے تھے توحالات بہت خراب تھے لیکن اِن کی کمٹمنٹ، لیڈر شپ اور ویژن سے پاکستان کا نام پھر سے روشن ہو گیا۔ ہم نے چیف سلیکٹر کو ہی ہیڈ کوچ کا رول دیا ہے۔ مصباح الحق بطور چیف سلیکٹراورہیڈ کوچ جواب دہ ہوں گے۔ ہم ایک ہی شخص کو ذمہ دار بنانا چاہتے ہیں۔

سی ای او وسیم خان نے کہا کہ مصباح الحق اور وقار یونس کی قومی کرکٹ ٹیم کے بطور کوچز پہلی اسائنمنٹ سری لنکا کے خلاف تین ایک روزہ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز ہو گی جو رواں ماہ ستائیس ستمبر سے شروع ہو گی۔

مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم ٹیسٹ رینکنگ میں نمبرون پوزیشن پر براجمان رہی۔ مصباح الحق چھپن ٹیسٹ میچز میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرچکے ہیں جس میں سے چھبیس میچوں میں پاکستانی ٹیم کامیاب جبکہ انیس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

پی سی بی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 5 رکنی پینل نے مصباح الحق اور وقار یونس کا نام اہم ذمہ داریوں کے لیے تجویز کیا تھا جس کے بعد چیئرمین احسان مانی نے دونوں کوچز کے ناموں کی منظوری دی ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پی سی بی کی طرف سے مصباح الحق اور وقار یونس کو تین، تین سال کا کنٹریکٹ دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچز کے انٹرویوز اگست کے آخری ہفتے میں پانچ رکنی سلیکشن کمیٹی کی جانب سے کیے گئے تھے۔ اس پینل میں وسیم خان، بازید خان، اسد علی خان، زاکر خان اور انتخاب عالم شامل تھے۔

مصباح اور وقار: ماضی کی یادیں تازہ کرتی ایک یادگار تصویر
مصباح اور وقار: ماضی کی یادیں تازہ کرتی ایک یادگار تصویر

مصباح الحق نے حال ہی میں کرکٹ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے مستعفی ہوکر ہیڈ کوچ کے لئے خود کو بطور امیدوار پیش کیا تھا۔

ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کی دوڑ میں حصہ لینے والوں میں مصباح الحق اور وقار یونس کے علاوہ سابق ٹیسٹ بیٹسمین محسن خان، آسٹریلیا کے ڈین جونز اور سابق ویسٹ انڈین کرکٹر کوٹنی والش کے نام شامل تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG