رسائی کے لنکس

مشال قتل مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کا مطالبہ


فائل
فائل

مشال کے والد نے کہا کہ 13 اپریل کو ان کے بیٹے کے قتل کے بعد سے اب تک ان کی بیٹیاں یونیورسٹی نہیں گئی ہیں۔

توہین رسالت کے الزام میں قتل ہونے والے مردان کے طالبِ علم مشال خان کے والد اقبال خان نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ملزمان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کامطالبہ کیاہے۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقبال خان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کے آنے سے نہ صرف مشال خان کی بے گناہی ثابت ہوچکی ہے بلکہ اس رپورٹ کی وجہ سے وہ اور خاندان کے دیگر افراد بھی سرخروہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 13 اپریل کو ان کے بیٹے کے قتل کے بعدسے اب تک ان کی بیٹیاں یونیورسٹی نہیں گئی ہیں۔

اقبال خان کا کہنا تھا کہ ان کاتعلق غریب گھرانے سے ہے اور وہ وکلا کی بھاری فیس ادا نہیں کرسکتے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے وکلا کی فیس ادا کرے بصورت دیگر ان کے بقول وہ وفاقی حکومت سے اپیل کریں گے ۔

ایک سوال کے جواب میں اقبال خان نے کہاکہ تحقیقاتی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ مثال خان کے قتل میں بااثر افراد ملوث ہیں لہذا مقدمے کی شفاف کارروائی یقینی بنانے کے لیے اسے مردان سے پشاور ہائی کورٹ منتقل کیاجائے۔

قتل میں ایک سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے ملوث ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں اقبال خان نے کہاکہ اس طرح کا قتل کسی بھی سیاسی جماعت کی پالیسی نہیں ہوسکتی بلکہ اسے ان افرادکی ذاتی فعل سمجھا جانا چاہیے۔

قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں کے افسران پرمشتمل ٹیم کی مرتب کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں مشال خان کے خلاف توہین رسالت کے الزام کو مسترد کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشال خان کوباقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قتل کیاگیا کیوں کہ مقتول طالبِ علم خان عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہونے والی مبینہ بدعنوانیوں کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں بیانات دیتا رہتا تھا۔

مشال خان مردان کی خان عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبۂ ابلاغِ عامہ کا طالبِ علم تھا جسے 13 اپریل کو یونیورسٹی کے بوائز ہاسٹل میں طلبہ کے مشتعل ہجوم نے سوشل میڈیا پر توہینِ رسالت کرنے اور گستاخانہ کلمات پوسٹ کرنے کے الزام میں قتل کردیا تھا۔

مشال کے قتل کا سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا تھا جب کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران پر مشتمل ایک 13 رکنی ٹیم قائم کی گئی تھی جس نے تحقیقات مکمل کرلی ہیں اور اب اپنی رپورٹ سپریم کورٹ اور مقدمے کی سماعت کرنے والی انسدادِ دہشت گردی کی مقامی عدالت میں جمع کرائے گی۔

XS
SM
MD
LG