رسائی کے لنکس

خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے قتل و لاپتہ ہونے کے واقعات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، مقتدر قومی اداروں اور حکومت سے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا تھا؛ جس کے لئے، سینئر صحافیوں کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی

صوبہ خیبر پختونخوا سے کزشتہ روز لاپتہ ہونے والے دو صحافی پیر کی شام اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

’مشال ریڈیو‘ سے وابستہ پشاور پریس کلب کے صحافی شاہ نواز ترگزئی کو اتوار کو ضلع چارسدہ کے علاقے شب قدر میں واقع صحافیوں کے ایک مرکز سے اغوا کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے اتوار کو ہی غیر ملکی میڈیا سے منسلک قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک اور سینیئر صحافی، اسلام گل آفریدی بھی اسلام آباد سے پشاور آتے ہوئے لاپتہ ہوگئے تھے۔

پشاور پریس کلب میں میں پیر کی صبح ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے ممبران نے شرکت کی۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے قتل و لاپتہ ہونے کے واقعات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، مقتدر قومی اداروں اور حکومت سے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ جس کے لئے، سینئر صحافیوں کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ تھی۔

شاہ نواز ترگزئی خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دن پانچ سرکاری اہلکار میڈیا سنٹر آئے اور اُن کو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔

میڈیا میں اِن دونوں صحافیوں کی کمشدگی کی خبروں کے بعد آج شام ان کی گھروں کو واپسی ہوئی، مگر تاحال ان کی واپسی کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی جارہی۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا میں صحافیوں کے خلاف تازہ ترین لہر میں چار دن قبل ضلع صوابی میں ایک صحافی ہارون خان کو مسلح افراد نے گھر کے سامنے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا، جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم، تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے قبول کی گئی تھی۔ تاہم، مقتول صحافی کے بھائی کی طرف سے سوتیلے بھائیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG