رسائی کے لنکس

logo-print

ایف سی افسران یکم دسمبر کو حاضر ہوں: سپریم کورٹ


جمعہ کے روز سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئی جی ایف سی میجر جنرل اعجاز شاہد کے پیش نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل وضاحت کریں کہ توہینِ عدالت کا نوٹس کسے جاری کیا جائے

کراچی ... چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے لاپتا افراد سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لئے ایف سی افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ یکم دسمبر کو ڈی آئی جی، سی آئی ڈی کے روبرو پیش ہوں۔

بلوچستان میں لاپتا ہوجانے والے افراد کے مقدمات کی سماعت جمعہ کو سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں ہوئی۔ چیف جسٹس سمیت چار رکنی لارجر بنچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔

جمعہ کے روز سماعت کے دوران، چیف جسٹس نے آئی جی ایف سی میجر جنرل اعجاز شاہد کے پیش نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل وضاحت کریں کہ توہین عدالت کا نوٹس کسے جاری کیا جائے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد بھٹی نے جواب دیا کہ عدالت کا حکم آئی جی ایف سے تک پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن وقت کم تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ، ’لاپتا افراد ہر صورت میں عدالت کے روبرو لانا ہوں گے‘۔

اس موقع پر، جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ بریگیڈیئر اورنگزیب، صوبیدار مومن، میجر طاہر اور کرنل نعیم سمیت ایف سی کے پانچ افسران کے خلاف الزامات ہیں انہیں پیش کیوں نہیں کیا جاتا۔ جواب میں ڈپٹی اٹارنی جنرل سی آئی ڈی بلوچستان، امتیاز شاہ نے کہا کہ ایف سی کا موٴقف ہے کہ یہ افسران فوج میں واپس جا چکے ہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لاپتا افراد چاہے سیکریٹری دفاع، سیکریٹری داخلہ، ایف سی یا کسی بھی ایجنسی کے پاس ہوں، ’ہمیں بندے چاہئیں‘۔

چیف جسٹس نے کہا کہ، ’ہمیں پتا ہے، اگر یہ آرمی کے ہیں تو ہیڈکوارٹر کو کہیں انہیں پیش کرے‘۔
XS
SM
MD
LG