رسائی کے لنکس

logo-print

شام پر امریکی حملے پہ عرب دنیا کا ملا جلا ردِ عمل


خطے کی بیشتر حکومتوں اور عوام نے امریکی حملوں پر مثبت ردِ عمل ظاہر کیا ہے البتہ بعض حلقوں نے اس پر تنقید بھی کی ہے۔

شام میں شدت پسند تنظیم 'دولتِ اسلامیہ' کے ٹھکانوں پر منگل کو امریکی طیاروں کی بمباری پہ عرب دنیا میں ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان فضائی حملوں میں امریکی فضائیہ کو بحرین، قطر، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات کی مدد بھی حاصل تھی۔

اس حملے میں عرب ملکوں کے تعاون کے باعث خطے کی بیشتر حکومتوں اور عوام نے امریکی حملوں پر مثبت ردِ عمل ظاہر کیا ہے البتہ بعض حلقوں نے اس اقدام پر تنقید بھی کی ہے۔

شام کی وزارتِ اطلاعات نے کئی گھنٹے گزرنے جانے کے باوجود منگل کی شب تک ان حملوں پر باضابطہ ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

لیکن شام کے سرکاری ٹی وی چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دمشق حکومت دولتِ اسلامیہ اور 'القاعدہ' سے منسلک تنظیم 'جبہۃ النصرہ' کے خلاف عالمی برادری کی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' نے امریکی حملے پر دبے لفظوں میں تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اِدلب میں کیے جانے والے حملے میں شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ بعض عام شہری اور بچے بھی مارے گئے ہیں۔

شام اور عراق کی کرد اقلیتی آبادی کے رہنماؤں، شامی تارکینِ وطن اور مغرب کی حمایتِ یافتہ شامی حزبِ اختلاف نے ان حملوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

ترکی کے نومنتخب صدر رجب طیب ایردوان نے بھی حملوں پر مثبت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک دولتِ اسلامیہ کے خلاف فوجی اور لاجسٹک مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

عرب ٹی وی چینلز نے منگل کو دن بھر شام کے مختلف علاقوں میں کیے جانے والے امریکی طیاروں کے حملوں کی وہ ویڈیوز نشر کیں جو عام شہریوں نے ذرائع ابلاغ کو بھیجی ہیں۔

ان چینلز پر نشر کیے جانے والے ماہرین کے تبصروں اور سڑکوں پر عوام سے لیے جانے والے تاثرات میں سے اکثر میں ان حملوں کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا گیا۔

مصر کے سرکاری ٹی وی چینل نے اپنی خصوصی نشریات میں دولتِ اسلامیہ کو ان جنگجووں کے مماثل قرار دیا جو صحرائے سینا کے علاقے میں مصری فوج اور سکیورٹی اداروں پر حملوں میں ملوث ہیں۔

شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر امریکی بمباری کی خبر پر لبنان میں بھی مجموعی طور پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جس کے کئی فوجی تنظیم کے قبضے میں ہیں جن میں سے شدت پسند کئی کا سر قلم کرچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG